پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور کارکنان کی جانب سے یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے نظر انداز کر دیا گیا ہے اور اسے ایک آئندہ معدنیات (منرلز) کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اس دعوے کو سابق مشیر شہزاد اکبر اور ان سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس نے خاص طور پر ہوا دی۔
حقیقت کیا ہے؟
دستیاب سرکاری ریکارڈز اور جاری سفارتی رابطوں کے مطابق یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔ پاکستان کو مذکورہ کانفرنس میں باضابطہ طور پر مدعو کیا جا چکا ہے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بھی جاری ہے۔ پاکستان کی شرکت نہ صرف طے شدہ ہے بلکہ اس حوالے سے عملی سطح پر تیاریوں کا عمل بھی جاری ہے۔
جھوٹے بیانیے کا مقصد
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو “نظر انداز” کیے جانے کا بیانیہ جان بوجھ کر گھڑا گیا ہے تاکہ عوام میں یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے حقائق کے برعکس ہیں اور محض سیاسی مفادات کے تحت پھیلائے جا رہے ہیں۔
سفارتی حقائق اور زمینی صورتحال
ذرائع کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں، خصوصاً معدنی وسائل، توانائی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے رابطے بدستور موجود ہیں۔ آئندہ کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت اسی تسلسل کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی شراکت داری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
حقائق واضح ہیں کہ پاکستان کو نہ تو نظر انداز کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی اہم بین الاقوامی فورم سے باہر رکھا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ سیاسی پروپیگنڈا ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے دعوؤں پر یقین کرنے سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔