لندن میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ان پر سفید پاؤڈر پھینکنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وائرل دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے دعوے میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی سفیر کو ان کی گاڑی کے قریب صحافیوں اور دیگر افراد نے گھیر لیا تھا۔ دعوے کے مطابق اس موقع پر ان سے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر سوالات کیے گئے۔
وائرل پوسٹوں میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ گفتگو کے دوران ایک نامعلوم شخص نے سفیر پر سفید پاؤڈر جیسا مادہ پھینک دیا۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
تاہم اس مبینہ واقعے کی کسی بھی آزادانہ ذرائع یا مستند ادارے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ واقعے سے متعلق کوئی مصدقہ رپورٹ یا ویڈیو ثبوت سامنے نہ آنے پر اس خبر کو ناقابلِ بھروسہ اور گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ سفارت خانے یا سرکاری اداروں کے تصدیقی بیان کے بغیر ایسی خبروں کو سچ ماننا درست نہیں ہے۔ کسی بھی سنگین دعوے کی اشاعت سے قبل اس کی سرکای سطح پر تصدیق ناگزیر ہوتی ہے۔
جعلی اور سنسنی خیز معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا صارفین سے ذمہ داری کے مظاہرے کی اپیل کی گئی ہے۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبریں آگے شیئر کرنے سے گریز کریں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عوام کو چاہیے کہ وہ کسی بھی حساس خبر کو پھیلانے سے پہلے مستند ذرائع سے اس کی صداقت لازمی جانچیں تاکہ معاشرے میں افواہوں اور سنسنی پھیلاؤ کا سدِباب ہو سکے۔





