وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیکٹ چیک کے مطابق افغان طالبان حکام اور بعض بھارتی و علاقائی میڈیا اداروں کی جانب سے پھیلایا گیا یہ دعویٰ کہ ننگرہار میں پاکستانی فضائیہ کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ زندہ گرفتار کر لیا گیا، حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دعوے کی تاحال کسی بھی آزاد، معتبر یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ دستیاب مواد کا جائزہ لینے سے یہ بیانیہ مشکوک ثابت ہوتا ہے۔
🔎 Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) February 28, 2026
Title: False Report by Afghan News Agencies amplified by Indian Media outlets & khaleej Times about “Pakistani Jet Shot Down in Nangarhar; Pilot Captured”
🟠 Claim (circulated by Afghan Taliban officials & amplified by… pic.twitter.com/698PtX86fv
دعویٰ کیا تھا؟
افغانستان کی نام نہاد وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان فورسز نے ننگرہار میں پاکستانی طیارہ تباہ کر کے اس کے پائلٹ کو حراست میں لے لیا۔ اس دعوے کو بعض بھارتی میڈیا اداروں اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول مین اسٹریم میڈیا نے فوری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ تاہم پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے کسی بھی طیارے کے نقصان کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی کسی بین الاقوامی دفاعی مانیٹرنگ ادارے، سیٹلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم یا عالمی خبر رساں ایجنسی نے اس واقعے کی توثیق کی۔
جدید دور میں کسی جنگی طیارے کے گرنے کا واقعہ عام طور پر سیٹلائٹ تصاویر، ملبے کی ویڈیوز اور آزاد ذرائع کی رپورٹس کے ذریعے جلد سامنے آ جاتا ہے، مگر اس معاملے میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
وائرل ویڈیو کی حقیقت
وائرل کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی پرانے اور غیر متعلقہ واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک افغان شہری کو اسپورٹس پیراشوٹ کے ساتھ دکھایا گیا جسے بعض حلقوں نے پاکستانی پائلٹ قرار دیا، لیکن اس کی شناخت اور سیاق و سباق اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک تصویر جسے بعض افغان میڈیا پلیٹ فارمز نے پاکستانی طیارے کا ملبہ قرار دیا، درحقیقت 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے ایک روسی فائر فائٹنگ طیارے کے حادثے کی ہے۔ اس حادثے میں روسی ساختہ بی ای-200 طیارہ جنوبی ترکی میں گر کر تباہ ہوا تھا اور اس کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا بشمول سی این این نے شائع کی تھیں۔ اس پرانی تصویر کو موجودہ دعوے سے جوڑنا گمراہ کن طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے۔
Fake Alert: The Afghan Taliban have claimed that they shot down a Pakistani aircraft in Nangarhar. However, upon reviewing the footage shared by Afghan sources, it was proven to be completely fake. An Afghan individual using a sports parachute was apprehended and presented by the… pic.twitter.com/nqOGPjtDtY
— Mahaz (@MahazOfficial1) February 28, 2026
مزید برآں کچھ دیگر تصاویر 2012 میں پیش آنے والے ایک پاکستانی فضائی حادثے سے منسلک پائی گئیں، جن میں ریسکیو 1122 کے اہلکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان تصاویر کو حالیہ واقعے کے طور پر پیش کرنا بھی حقائق کے منافی ہے۔ فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں سرحدی کشیدگی کے تناظر میں متعدد گمراہ کن ویڈیوز اور پوسٹس سامنے آئی ہیں جنہیں بعد ازاں غلط ثابت کیا گیا۔ یہ دعویٰ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے، جس میں غیر متعلقہ بصری مواد کو استعمال کر کے ایک سنسنی خیز مگر غیر مصدقہ بیانیہ تشکیل دیا گیا۔
حقائق
رپورٹ کے مطابق ننگرہار میں پاکستانی جنگی طیارہ گرائے جانے یا کسی پائلٹ کی گرفتاری کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔ نہ ملبے کی تصدیق شدہ تصاویر سامنے آئی ہیں، نہ جغرافیائی شواہد اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے نے اس واقعے کی توثیق کی ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کو شیئر کرنے سے گریز کریں اور حساس حالات میں صرف مستند اور قابلِ اعتماد ذرائع پر انحصار کریں۔