امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف “بڑی جنگی کاروائیوں” کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کردہ آٹھ منٹ طویل ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ اب تہران کی دھمکی آمیز سرگرمیوں کو مزید برداشت نہیں کرے گا، کیونکہ یہ براہِ راست امریکی مفادات، فوجیوں اور عالمی اتحادیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایرانی حکومت کی گزشتہ 47 سالہ پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے 1979 کے امریکی سفارت خانے کے بحران کا حوالہ دیا، جب 66 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی بحالی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری میں مصروف تھا، جسے روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا کہ امریکی افواج ایرانی بحریہ کو نیست و نابود اور ان کے میزائل تنصیبات کو تباہ کر دیں گی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو مخاطب کرتے ہوئے امریکی صدر نے دو ٹوک الفاظ میں ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ بصورتِ دیگر انہیں “یقینی موت” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس آپریشن میں امریکی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے، تاہم جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔
ایرانی عوام کے نام پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی “آزادی کی گھڑی” آن پہنچی ہے اور یہ ان کے پاس اپنی حکومت سنبھالنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برسوں سے ایرانی عوام امریکہ سے مدد کے طالب تھے اور آج وہ وہ فیصلہ کر رہے ہیں جو ماضی میں کوئی امریکی صدر کرنے کو تیار نہیں تھا۔
دیکھیے: ایران امریکہ مذاکرات یا متوقع جنگ، ایک تجزیاتی رپورٹ: پارٹ ون