افغانستان میں ایک بار پھر اندرونی تنازعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو آرہا ہے۔ اسی تناظر میں فاریاب اور قندوز میں مزاحمتی گروہوں نے افغان طالبان حکومت کے اہلکاروں پر حملے کرکے متعدد افراد ہلاک کیے ہے۔
تفصیلات کے مطابق فاریاب کے صوبائی دارالحکومت میمنہ میں ہفتہ کے روز جبهۀ آزادی افغانستان کے جنگجوؤں نے افغان وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دفتر پر ایک منظم حملہ کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ حملے میں کم از کم دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے اس یونٹ کے ارکان روزمرہ کی بنیاد پر شہر بھر میں گشت کرتے ہیں اور اس دواران خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ خیال رہے کہ جبهۀ آزادی افغانستان گروہ اس سے قبل کابل، تخار اور کاپیسا میں بھی افغان طالبان کے اہلکاروں کو نشانہ بنا چکا ہے۔
حمله بر ریاست امر بالمعروف طالبان در فاریاب
— جبههَ آزادی افغانستان (@AfgFreedomAFF) December 1, 2025
مبارزان جبهۀ آزادی افغانستان ساعت ۶ شام یکشنبه، ۹ قوس ۱۴۰۴، ریاست امر بالمعروف و نهی عنالمنکر طالبان را در شهر میمنه، مرکز ولایت فاریاب، هدف حمله قرار دادهاند.
این حملهٔ از پیش برنامهریزیشده بر تجمع محتسبان این اداره در هنگام… pic.twitter.com/vbbXNmPajo
قندوز میں افغان طالبان پر حملہ
ہفتے کے روز ٹھیک ایک گھنٹے بعد قندوز صوبے میں اسی گروہ کے جنگجوؤں نے افغان طالبان کے اہلکاروں پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق کند، شیرخان بندر شاہراہ کے قریب واقع الچین علاقے میں ہونے والے اس حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہوا جبکہ دو زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ حملہ آوروں نے ایک گاڑی کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ واضح رہے کہ مزاحمتی گروہ کے جنگجوؤں اور مقامی شہریوں کو اس کارروائی میں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
مزاحمتی کارروائیاں جاری
مذکورہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں جاری ہیں۔ حملہ آور اور مزاحمتی گروہوں کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد افغانی عوام اور علاقوں کو غیر قانونی اور تسلط زدہ طالبان حکومت سے آزاد کرانا ہے۔
دیکھیں: خیبر پختونخوا میں ڈرون حملے اور داعش کمانڈروں کی موجودگی کی اطلاعات بے بنیاد قرار