"> اقتدار نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے: وزیر تعلیم

مولانا فضل الرحمان کو اقتدار نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے: وزیر تعلیم

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر پنجاب کی صوبائی وزرا کی تنقید، رانا سکندر حیات اور سلمیٰ بٹ نے شہداء کی قربانیوں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور گورنر راج سے متعلق مؤقف پیش کر دیا۔
وزیر تعلیم رسنا سکندر اور مولانا فضل الرحمان

رانا سکندر حیات اور سلمیٰ بٹ نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی، شہداء کی قربانیوں اور گورنر راج پر بات کی۔

October 26, 2026

وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات اور صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ شہداء کی بے حرمتی اور ان کی قربانیوں کی نفی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو صرف اس بات پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے کہ انہیں اس بار اقتدار میں حصہ نہیں ملا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے کیا کیا ہے؟ خیبرپختونخوا کی عوام اور ان کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پاک فوج اور سیکورٹی فورسز نے دی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے عوام

وزیر تعلیم پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کی عوام آج یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ ان کی بہتری اور فلاح کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ اقتدار کی سیاست کے لیے شہداء کی عظیم قربانیوں کو نشانہ بنانا انتہائی ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر سلمیٰ بٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ انہی کے ادوار میں صوبے میں دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اٹھایا، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا۔

سلمیٰ بٹ نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری افواج کی قربانیوں کو کسی صورت نہیں جھٹلایا جا سکتا اور ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیا ‘نیشنل ایکشن پلان’ ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ نہ تو کسی کی ذاتی خواہش تھی اور نہ ہی اسے کوئی سیاسی حل سمجھا گیا، بلکہ وہاں کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام محض ایک ناگزیر مجبوری کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

پاکستان نے انٹیلی جنس آپریشنز کے ذریعے افغانستان سے فعال داعش خراسان کا نیٹ ورک اور پھیلاؤ کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

October 26, 2026

تہران میں مکہ دفاعی اتحاد اور ایرانی قیادت کا اہم اجلاس۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف کی خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے شرکت۔

October 26, 2026

پاکستان نے سعودی عرب کے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں پر حوثی میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

October 26, 2026

مودی حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں نے سکھ یاتریوں کی مذہبی آزادی سلب کر دی، جس پر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے شدید تنقید کی ہے۔

October 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *