معروف تجزیہ کار فدا عدیل نے کہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملوں کا بنیادی مقصد رجیم چینج تھا جبکہ جوہری پروگرام کو محض ایک جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مؤثر مزاحمت کرتے ہوئے امریکا کو مذاکرات پر مجبور کر دیا ہے اور اس کی جوابی کارروائیوں نے خطے کی مجموعی صورتحال کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے تمام تر مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے جبکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر ہتھیار ڈالنے والا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت اسلام آباد عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے اور عالمی میڈیا میں پاکستان کے کردار کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات خطے کے امن کے لیے نہایت اہم ہیں۔
فدا عدیل نے افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے اور پاکستان کا ہدف صرف دہشتگرد عناصر ہیں، نہ کہ افغانستان میں رجیم چینج۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کی رجیم چینج پاکستان کے مفاد میں نہیں اور پاکستان صرف طالبان کے ساتھ اپنے تحفظات کا خاتمہ چاہتا ہے۔ ان کے مطابق نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر پاکستان کے بڑے اہداف میں شامل ہیں تاہم تاحال انہیں نشانہ نہیں بنایا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ عید کے باعث افغانستان میں آپریشنز مؤخر کیے گئے جبکہ مستقبل میں ان کی بحالی کا فیصلہ صورتحال کے مطابق ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں کسی بڑے حملے کا تعلق افغانستان سے ثابت نہ ہوا تو کشیدگی میں کمی کا امکان ہے، جبکہ سرحد پار سے چھیڑ چھاڑ نہ ہونے کی صورت میں کارروائیاں دوبارہ شروع نہ ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قطر، چین اور یو اے ای پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کر رہے ہیں اور طالبان کی جانب سے تحریری ضمانت دینے کی پیشکش ایک مثبت پیش رفت ہے۔
یہ بات انہوں نے ایچ ٹی این اردو کے اسپیس سیشن میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر گفتگو کرتے ہوئے کی۔
دیکھیے: پاکستان رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی میزبانی کر سکتا ہے: مائیکل کوگلمین