خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، ٹھکانے تباہ اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

October 3, 2026

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

October 2, 2026

فتنہ الخوارج کی دہشت گردی اور ریاست کا حقِ دفاع

فتنہ الخوارج نے 2007 سے اب تک ہزاروں شہریوں، فوجیوں اور علما کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی قانون کے تحت کالعدم اس تنظیم کے خلاف ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز آئینی اختیار کے تحت کیے گئے۔
فتنہ الخوارج کی دہشت گردی اور ریاست کا حقِ دفاع

فتنہ الخوارج کی دہشت گردی، اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے اور پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کی قانونی و آئینی حیثیت پر اداریہ

August 13, 2026

کسی بھی ریاست کے وجود کی سب سے بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا سکے۔ جب کوئی مسلح گروہ اس بنیادی فریضے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے، دھماکوں اور خون خرابے کے ذریعے ریاستی رٹ کو چیلنج کرے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنائے، تو ایسی قوت کو کسی بھی صورت مزاحمت یا جدوجہد کا خوش نما لبادہ نہیں پہنایا جا سکتا۔ فتنہ الخوارج بھی بعینہٖ ایسی ہی ایک قوت ہے جس نے دسمبر 2007 میں اپنے قیام کے بعد سے پاکستان کے خلاف مسلسل خونریزی کا بازار گرم رکھا ہوا ہے۔

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اس تنظیم نے سینکڑوں دہشت گرد حملوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہ شہریوں، پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں، قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور معصوم طلبہ کو موت کے گھاٹ اتارا۔ آرمی پبلک سکول پشاور کا سانحہ آج بھی پوری قوم کے دل پر نقش ایک ایسا زخم ہے جو اس تنظیم کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایسے میں یہ سوال ہی فضول ہے کہ آیا فتنہ الخوارج کی کارروائیوں کو دہشت گردی کے سوا کوئی اور نام دیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسے باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے، اور پاکستان کا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ بھی اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ یہ کوئی سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ اس تنظیم کے اپنے اعمال کا فطری نتیجہ ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ تنظیم اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے کبھی کبھار نظریاتی یا علاقائی دعوے بھی گھڑ لیتی ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان کو فرضی صوبے قرار دینا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ نہ ان علاقوں کے عوام نے کبھی اس تنظیم کو کوئی مینڈیٹ دیا، نہ اسے کسی قسم کا انتظامی کنٹرول حاصل ہے۔ محض دعوے کی بنیاد پر کسی خطے کو اپنا صوبہ قرار دے دینا دراصل انتشار پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے، جسے سنجیدگی سے لینے کی کوئی گنجائش نہیں۔

ایسے میں پاکستان کے پاس اپنے شہریوں کے تحفظ اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسی کارروائیاں اسی آئینی ذمہ داری کا اظہار تھیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو تباہ کرنا، ان کے کمانڈ نیٹ ورکس کو توڑنا اور بے گھر ہونے والے قبائلی خاندانوں کی باعزت واپسی کو یقینی بنانا تھا۔ اسی طرح پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب اور شناختی تصدیق کا نظام بھی کسی جارحیت کے بجائے ایک ایسا اقدام ہے جسے دنیا بھر میں سرحدی سلامتی کا معیاری اصول تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف اور صرف دہشت گردوں کی دراندازی اور اسلحے کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

اسی طرح 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابقہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام بھی ان عناصر کی جانب سے اکثر منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس ترمیم نے قبائلی عوام کو عدالتی نظام، پولیس، پارلیمانی نمائندگی اور بنیادی شہری سہولیات تک رسائی دی۔ یہ عمل کسی قبضے کی نہیں بلکہ ایک جمہوری اور آئینی اقدام کی مثال ہے جس نے طویل عرصے سے نظرانداز کیے گئے قبائلی علاقوں کو مرکزی دھارے میں شامل کیا۔

قومی سلامتی کے تقاضے یہ متقاضی ہیں کہ ریاست اپنی رٹ کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہر اقدام کو مؤثر، آئینی اور بروقت رکھے۔ فتنہ الخوارج کی مسلسل خونریزی کا ریکارڈ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نرمی یا مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جا سکتی۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ انٹیلی جنس بنیادوں پر مربوط اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے، تاکہ ان دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ ہو اور آئندہ نسلیں امن و سکون کی زندگی گزار سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف پاکستان کی سلامتی بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

دیکھیے: ٹی ٹی پی کے ہاتھوں امریکی اسلحہ، خیبر پختونخوا پھر نشانے پر

متعلقہ مضامین

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، ٹھکانے تباہ اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔

October 3, 2026

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *