پاک افغان کشیدگی میں شدت اور طوالت کے بعد طالبان کو مبینہ طور پر افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں جبری بھرتیوں کا سلسلہ شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف لڑائی کے لیے مالی مراعات کی پیشکش کی جا رہی ہے، جبکہ انکار کی صورت میں زبردستی بھرتی کیے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔
اسی ذریعے کے مطابق طالبان کی حکمت عملی میں مبینہ طور پر غیر پشتون نوجوانوں، بالخصوص ازبک شہریوں، کو زیادہ تعداد میں بھرتی کرنے کا رجحان شامل ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے ایک جانب بعض علاقوں میں آبادیاتی و معاشی اثرات مرتب کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب علاقائی سطح پر پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے مثبت جذبات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
مقامی سطح پر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جبری طور پر بھیجے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں اور کئی خاندان اپنے نوجوانوں کی واپسی کے لیے فکرمند ہیں۔ اسی نوعیت کی اطلاعات صوبہ سرِ پل سے بھی موصول ہوئی ہیں جہاں مبینہ طور پر نوجوانوں کو محاذ پر بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
تاحال طالبان حکام کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال کی حساسیت کے پیش نظر آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں، تاہم شمالی افغانستان سے آنے والی اطلاعات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔