مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

طالبان کمانڈر کا متنازع بیان: مالی امداد کے عوض ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی مشروط پیشکش

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں
افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

طالبان کمانڈر کا ایران سے جنگ کا مشروط اعلان؛ مالی امداد کے بدلے تہران کے خلاف زمینی آپریشن کی پیشکش۔ پاک افغان اور ایران سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نیا رخ

March 4, 2026

افغانستان اور ایران کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعات اور پانی کی تقسیم پر جاری کشیدگی کے دوران ایک طالبان کمانڈر کا انتہائی حساس بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مالی امداد کے بدلے ایران کے خلاف جنگ لڑنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹوں کے مطابق طالبان کمانڈر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر انہیں مطلوبہ مالی و عسکری امداد فراہم کی جائے تو وہ اپنی فورسز کے ہمراہ ایران کے خلاف زمینی آپریشن شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کمانڈر کے بقول وہ تہران کے خلاف محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ انہیں بیرونی تعاون حاصل ہو۔

https://twitter.com/TurkiyeUrdu_/status/2028816710048829477?s=20

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کی عبوری حکومت اور ایران کے درمیان سرحدی حدود اور ہلمند دریا کے پانی کے حقوق پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں، جن میں جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں سے اس قسم کے بیانات خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ابھی تک اس بیان کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرینِ سیاسیات اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب، ایران نے ہمیشہ افغان سرحد پر استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اس تازہ ترین دھمکی آمیز بیان پر سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، افغانستان میں موجود مختلف دھڑوں کی جانب سے اس طرح کی پیشکشیں خطے میں کرائے کے جنگجوؤں کے کلچر کو فروغ دے سکتی ہیں، جو عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

دیکھیے: آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے حملے پسپا، 67 حملہ آور ہلاک

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *