افغانستان اور ایران کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعات اور پانی کی تقسیم پر جاری کشیدگی کے دوران ایک طالبان کمانڈر کا انتہائی حساس بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مالی امداد کے بدلے ایران کے خلاف جنگ لڑنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹوں کے مطابق طالبان کمانڈر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر انہیں مطلوبہ مالی و عسکری امداد فراہم کی جائے تو وہ اپنی فورسز کے ہمراہ ایران کے خلاف زمینی آپریشن شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ کمانڈر کے بقول وہ تہران کے خلاف محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ انہیں بیرونی تعاون حاصل ہو۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کی عبوری حکومت اور ایران کے درمیان سرحدی حدود اور ہلمند دریا کے پانی کے حقوق پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں، جن میں جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی صفوں سے اس قسم کے بیانات خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ابھی تک اس بیان کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرینِ سیاسیات اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب، ایران نے ہمیشہ افغان سرحد پر استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اس تازہ ترین دھمکی آمیز بیان پر سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، افغانستان میں موجود مختلف دھڑوں کی جانب سے اس طرح کی پیشکشیں خطے میں کرائے کے جنگجوؤں کے کلچر کو فروغ دے سکتی ہیں، جو عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
دیکھیے: آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے حملے پسپا، 67 حملہ آور ہلاک