اگر طالبان واقعی اسلامی نظام کے دعوے دار ہیں تو انہیں سب سے پہلے انصاف، تنوع اور انسانی وقار کو تسلیم کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ایسے قوانین کو اصلاح نہیں، ظلم کی دستاویز کے طور پر یاد رکھے گی۔

January 26, 2026

طالبان حکومت نے امریکی انتظامیہ کے سامنے پہلا بڑا سفارتی چیلنج پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گوانتانامو بے کے قیدی محمد رحیم کو دو امریکی شہریوں کے بدلے رہا کیا جائے

January 26, 2026

یومِ سیاہ کے مظاہروں کے ذریعے کشمیری عوام نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو ایک قابض طاقت کے طور پر تسلیم کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلانے میں عملی کردار ادا کرے۔

January 26, 2026

یہ ضابطہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا قانون انسان کو عزت دینے کے لیے ہوتا ہے یا اسے مطیع بنانے کے لیے؟ کیا شریعت کا مقصد عدل، رحم اور مساوات ہے یا خوف، تفریق اور جبر؟ ایک اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کے قوانین نہ صرف طاقت بلکہ اخلاقی جواز بھی رکھتے ہوں۔

January 26, 2026

حماس کے مرکزی رہنماء نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی ثالثی کو اسرائیل۔ حماس جنگ کے خاتمے میں مؤثر قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ کی مداخلت اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے سے قتل و غارت ختم ہوئی

January 26, 2026

ترک وزیرِ خارجہ حاکان فیدان نے امریکہ کو ایران پر دباؤ ڈالنے سے گریز کی ہدایت دی، ورنہ خطے میں بحران پیدا ہو سکتا ہے

January 26, 2026

حکومت نے معیشت کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کیلئے نجی شعبہ سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے؛ جواد پال

فیصل آباد چیمبر اور دیگر تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اِن کو اپنی سفارشات پہنچائیں تاکہ اُن پر غور کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے صنعتوں کو درپیش مسائل کا ذکر کیا اور کہا کہ اُن کے حل کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
حکومت نے معیشت کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کیلئے نجی شعبہ سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے؛ جواد پال

آخر میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے چیمبر کی 50سالہ گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے خصوصی کالر پن لگائی اور شیلڈ پیش کی۔

January 19, 2026

حکومت نے معیشت کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ترقی دینے کیلئے نجی شعبہ سے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اس سلسلہ میں گروتھ لیڈ ایکسپورٹ کیلئے ہر قسم کی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ بات وزارت کامرس کے وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں برآمدات کو بڑھانے کیلئے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں مقامی تجارتی تنظیموں کے علاوہ سرگودھا اور ملتان چیمبر کے عہدیداروں نے بھی آن لائن شرکت کی۔

وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ دو تین سال کے مقابلے میں معاشی حالات کافی بہتر ہیں لیکن مزید اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ آئندہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے پہلے مرحلہ پر عمل شروع ہو گا جس سے اِن کی مجموعی کارکردگی میں بہتر ی کے ساتھ ساتھ لائن لاسز میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت کامرس نے پچھلے سال جو اہم اقدامات اٹھائے تھے ان میں 2025-30ء کیلئے نیشنل ٹیرف پالیسی کا اعلان بھی شامل تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ہمیں آئندہ 30سالوں کیلئے اپنی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی اور ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے جن میں پانی اور بجلی کا استعمال کم ہو۔ انہوں نے آئی ٹی سیکٹر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس میں ترقی کے زبردست مواقع ہیں مگر ہمیں اُن سے فائدہ اٹھانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے وزیر خزانہ کے حوالے سے بتایا کہ ایک میٹنگ میں ایس ایم ای اور زرعی فنانسنگ پر خاص طور پر بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بینکوں کے پاس ٹریلین روپے کا پورٹ فولیو ہے جس سے اِن شعبوں کو صرف 6فیصد سے بھی کم ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سٹیٹ بینک سے درخواست کر رہے ہیں کہ رعایتی اور آسان قرضوں کے سلسلہ میں ایس ایم ای سیکٹر کو خصوصی مراعات دی جائیں۔ انہوں نے ہنر مند افرادی قوت اور دیگر مسئلوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی اور یقین دلایا کہ بجٹ کی تیاری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اب ایف بی آر کی بجائے بجٹ وزارت خزانہ خود تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا فوکل پرسن مقررکر رہے ہیں۔

فیصل آباد چیمبر اور دیگر تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اِن کو اپنی سفارشات پہنچائیں تاکہ اُن پر غور کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے صنعتوں کو درپیش مسائل کا ذکر کیا اور کہا کہ اُن کے حل کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کیلئے جن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سر فہرست پیداواری لاگت میں کمی، سستے سرمایے کی فراہمی، معاشی پالیسیوں کا تسلسل، نئی اور روایتی منڈیوں تک رسائی، برآمدی مصنوعات کے معیار میں بہتری،جدت اور امن وامان کی بہتری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمدات کئی سالوں سے جمود کا شکار ہے۔

تاہم ترسیلات زر کی وجہ سے ملکی معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملی۔ لیکن یہ بات طے شدہ حقیقت ہے کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے صرف اور صرف برآمدات میں اضافہ درکار ہے۔ اس وقت ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.25 بلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

یہ ایک ریکارڈ اضافہ ہے ۔آخر میں نائب صدر انجینئرعاصم منیر، سابق صدور ڈاکٹر خرم طارق، شبیر حسین چاولہ، چوہدری محمد نواز، مزمل سلطان، ایگزیکٹو ممبر وحید خالق رامے، آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین شہزاد حسین، آئی ٹی سیکٹر کے حماد عثمان اور دیگر ممبران نے سوال و جواب کی نشست میں حصہ لیا۔

آخر میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے چیمبر کی 50سالہ گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے خصوصی کالر پن لگائی اور شیلڈ پیش کی۔ وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال نے چیمبر کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کئے اور گروپ فوٹو بنوایا۔ اِس اجلاس میں نیشنل ٹیکس پالیسی کے ڈاکٹر نجیب اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب محترمہ رافعہ سید نے بھی شرکت کی۔

دیکھیں: پاکستان اور ازبکستان کی اقتصادی شراکت داری، تجارتی ہدف دو ارب ڈالر مقرر

متعلقہ مضامین

اگر طالبان واقعی اسلامی نظام کے دعوے دار ہیں تو انہیں سب سے پہلے انصاف، تنوع اور انسانی وقار کو تسلیم کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ایسے قوانین کو اصلاح نہیں، ظلم کی دستاویز کے طور پر یاد رکھے گی۔

January 26, 2026

طالبان حکومت نے امریکی انتظامیہ کے سامنے پہلا بڑا سفارتی چیلنج پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گوانتانامو بے کے قیدی محمد رحیم کو دو امریکی شہریوں کے بدلے رہا کیا جائے

January 26, 2026

یومِ سیاہ کے مظاہروں کے ذریعے کشمیری عوام نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو ایک قابض طاقت کے طور پر تسلیم کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلانے میں عملی کردار ادا کرے۔

January 26, 2026

یہ ضابطہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا قانون انسان کو عزت دینے کے لیے ہوتا ہے یا اسے مطیع بنانے کے لیے؟ کیا شریعت کا مقصد عدل، رحم اور مساوات ہے یا خوف، تفریق اور جبر؟ ایک اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کے قوانین نہ صرف طاقت بلکہ اخلاقی جواز بھی رکھتے ہوں۔

January 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *