حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا۔ دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے۔ پہلے دور میں سیاسی معاملات، خیبرپختونخوا کی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔
حکومتی اور اپوزیشن وفود نے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں مذاکرات کیے۔ حکومتی کمیٹی میں وفاقی وزرا محسن نقوی، امیر مقام، سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، اعجاز جاکھرانی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری شامل تھے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجا اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس مذاکرات میں شریک ہوئے۔
مذاکرات کا پہلا دور
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آغاز پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی سے متعلق نکات حکومتی مؤقف کے طور پر پیش کیے۔ انہوں نے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی صورتحال پر بھی بات کی۔
ذرائع کے مطابق علامہ راجا ناصر عباس نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے معاملے پر نہیں بلکہ سیاسی امور پر بات کرنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کی گرفتاریوں سمیت دیگر معاملات بھی مذاکرات کا حصہ بننے چاہئیں۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اہم فیصلوں کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ محمود خان اچکزئی اور ان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سینیٹر شیری رحمان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد معاملات کے حل کی ضمانت سے متعلق سوال اٹھایا۔ اس پر پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ قیادت سے ملاقات کے بعد حالات بہتر ہونے کی توقع ہے اور اس کے بغیر مذاکرات میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آسکتا۔
دوبارہ مشاورت
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران نماز کے لیے وقفہ کیا گیا۔ پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو کی۔
بیرسٹر گوہر نے محمود خان اچکزئی کی جانب سے دیے گئے نکات بھی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے رکھے۔ وقفے کے دوران دونوں فریقوں نے اپنی اپنی کمیٹیوں میں مذاکرات کی پیش رفت پر مشاورت کی۔
حکومتی کمیٹی نے مذاکرات سے قبل بھی غیر رسمی اجلاس کیا، جس میں قانونی امور کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے مذاکرات میں بنیادی طور پر سیاسی معاملات پر بات کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔
حکومت کا مذاکرات پر مؤقف
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات سے قبل کہا کہ حکومت کو بات چیت سے کبھی جھجک محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی کہا کہ حکومت نے مذاکرات کی دعوت دی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ اچھی امید کے ساتھ بیٹھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت سے مسائل کا حل ملک اور سیاسی صورتحال کے لیے بہتر ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالتوں سے متعلق معاملات کا فیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہے، جبکہ سیاسی معاملات مذاکرات کی میز پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی معاملات میں بات چیت اور سیاسی رواداری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پہلا دور کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہونے کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیاں کل دوبارہ اجلاس کریں گی۔