چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کا امیر خان متقی سے رابطہ؛ پاکستان اور افغان طالبان کو سرحدی کشیدگی مذاکرات سے حل کرنے کی ہدایت

March 14, 2026

افغانستان کی معاشی کمزوری سکیورٹی مسائل سے جڑی ہے؛ ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین پر موجودگی اور سرحد پار حملے پاک افغان تجارت میں اصل رکاوٹ ہیں

March 14, 2026

افغان اشتعال انگیزی کے بعد پاکستان کا کسی بھی وقت بڑے فوجی ردِعمل کا امکان؛ بگرام میں ڈرون اسمبلنگ یونٹ تباہ، کشیدگی میں کمی ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی سے مشروط

March 14, 2026

صدر آصف علی زرداری کا افغان طالبان کے ڈرون حملوں پر سخت ردِعمل؛ پاکستان کی سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے، شہری اہداف پر حملے ناقابلِ برداشت ہیں

March 14, 2026

پاکستان کا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی آپریشن؛ طالبان کا شہری ہلاکتوں کا دعویٰ مسترد۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے

March 14, 2026

بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل کے اگلے روز اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران کو بھارت نے دھوکہ دیا۔ حتی کہ بھارت نے ایران پر حملے کی باقاعدہ دھمکی بھی دی ۔ لیکن اس کے باوجود بھارت میں اہل تشیع نے کوئی پرتشدد مظاہرہ نہیں کیا۔

March 14, 2026

گل پلازہ: کراچی کا جلتا دل اور حکمرانوں کی بےحسی

یہ سانحہ کراچی کی حکمرانی کی کمزوری، صوبائی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور لاپرواہی کو بے نقاب کرتا ہے۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، بدانتظامی، کرپشن اور ناقص حکمرانی کا شکار ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ شہر کے نظام کو درست کرنا ان کے بس کا کام نہیں رہا۔
گل پلازہ: کراچی کا جلتا دل اور حکمرانوں کی بےحسی

گل پلازہ کو مخدوش قرار دیا جا چکا ہے اور اس کی رونقیں کب بحال ہوں گی، اس کا کوئی تعین نہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ دکان داروں کو ہونے والے بھاری مالی نقصان اور ضائع ہونے والی قیمتی جانوں کا ازالہ کون کرے گا؟

January 19, 2026

گذشتہ کل کے اختتام پر ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ نے کراچی کو ہلا کر رکھ دیا۔ صبح کے وقت جب سورج طلوع ہوا تو شہر کے لوگوں کے سامنے تباہی کے دل دہلا دینے والے مناظر پھیل چکے تھے۔ یہ معروف تجارتی مرکز، جو ہر طبقے کے شہریوں کے لیے خریداری کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب راکھ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

تین منزلہ عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ زمین بوس ہو چکا ہے جبکہ باقی حصہ بھی مخدوش قرار دیا گیا ہے۔ درجنوں دکانیں اور گودام مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے، اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان راکھ میں تبدیل ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق کئی دکانوں میں موجود نقد رقم بھی آگ میں ضائع ہو گئی۔ جو جگہ کبھی خریداروں سے بھری رہتی تھی، آج وہاں صرف خاموشی اور بربادی کے مناظر ہیں۔

کاروباری افراد، جنہوں نے برسوں محنت کر کے یہ کاروبار قائم کیے تھے، اپنی محنت کی راکھ ہوتی دیکھ کر غمگین اور مایوس ہیں۔ ریسکیو ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اب تک 11 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ سینکڑوں ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں اور شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ سانحہ کراچی کی حکمرانی کی کمزوری، صوبائی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور لاپرواہی کو بے نقاب کرتا ہے۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، بدانتظامی، کرپشن اور ناقص حکمرانی کا شکار ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ شہر کے نظام کو درست کرنا ان کے بس کا کام نہیں رہا۔ کراچی کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر فوری اقدامات کرنا ہوں گے اور شہر کو کرپٹ اور ناقص نظام سے نجات دلانی ہوگی۔

گل پلازہ کو مخدوش قرار دیا جا چکا ہے اور اس کی رونقیں کب بحال ہوں گی، اس کا کوئی تعین نہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ دکان داروں کو ہونے والے بھاری مالی نقصان اور ضائع ہونے والی قیمتی جانوں کا ازالہ کون کرے گا؟ جب تک اس کا کوئی جواب نہیں ملتا، کراچی کے شہری بدانتظامی اور لاپرواہی کے شکنجے میں جکڑے رہیں گے۔

دیکھیں: کراچی کے گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی؛ 6 افراد جاں بحق، متعدد زخمی، وزیراعظم اور صدر مملکت کا اظہار افسوس

متعلقہ مضامین

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کا امیر خان متقی سے رابطہ؛ پاکستان اور افغان طالبان کو سرحدی کشیدگی مذاکرات سے حل کرنے کی ہدایت

March 14, 2026

افغانستان کی معاشی کمزوری سکیورٹی مسائل سے جڑی ہے؛ ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین پر موجودگی اور سرحد پار حملے پاک افغان تجارت میں اصل رکاوٹ ہیں

March 14, 2026

افغان اشتعال انگیزی کے بعد پاکستان کا کسی بھی وقت بڑے فوجی ردِعمل کا امکان؛ بگرام میں ڈرون اسمبلنگ یونٹ تباہ، کشیدگی میں کمی ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی سے مشروط

March 14, 2026

صدر آصف علی زرداری کا افغان طالبان کے ڈرون حملوں پر سخت ردِعمل؛ پاکستان کی سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے، شہری اہداف پر حملے ناقابلِ برداشت ہیں

March 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *