گذشتہ کل کے اختتام پر ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ نے کراچی کو ہلا کر رکھ دیا۔ صبح کے وقت جب سورج طلوع ہوا تو شہر کے لوگوں کے سامنے تباہی کے دل دہلا دینے والے مناظر پھیل چکے تھے۔ یہ معروف تجارتی مرکز، جو ہر طبقے کے شہریوں کے لیے خریداری کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب راکھ اور ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
تین منزلہ عمارت کا تقریباً 40 فیصد حصہ زمین بوس ہو چکا ہے جبکہ باقی حصہ بھی مخدوش قرار دیا گیا ہے۔ درجنوں دکانیں اور گودام مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے، اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان راکھ میں تبدیل ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق کئی دکانوں میں موجود نقد رقم بھی آگ میں ضائع ہو گئی۔ جو جگہ کبھی خریداروں سے بھری رہتی تھی، آج وہاں صرف خاموشی اور بربادی کے مناظر ہیں۔
کاروباری افراد، جنہوں نے برسوں محنت کر کے یہ کاروبار قائم کیے تھے، اپنی محنت کی راکھ ہوتی دیکھ کر غمگین اور مایوس ہیں۔ ریسکیو ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اب تک 11 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ سینکڑوں ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں اور شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ سانحہ کراچی کی حکمرانی کی کمزوری، صوبائی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی اور لاپرواہی کو بے نقاب کرتا ہے۔ کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، بدانتظامی، کرپشن اور ناقص حکمرانی کا شکار ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ شہر کے نظام کو درست کرنا ان کے بس کا کام نہیں رہا۔ کراچی کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر فوری اقدامات کرنا ہوں گے اور شہر کو کرپٹ اور ناقص نظام سے نجات دلانی ہوگی۔
گل پلازہ کو مخدوش قرار دیا جا چکا ہے اور اس کی رونقیں کب بحال ہوں گی، اس کا کوئی تعین نہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ دکان داروں کو ہونے والے بھاری مالی نقصان اور ضائع ہونے والی قیمتی جانوں کا ازالہ کون کرے گا؟ جب تک اس کا کوئی جواب نہیں ملتا، کراچی کے شہری بدانتظامی اور لاپرواہی کے شکنجے میں جکڑے رہیں گے۔