جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔

January 23, 2026

بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے بھارت میں میچز شیڈول نہ بدلنے پر ٹی 20 ورلڈ کپ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا

January 22, 2026

طالبان ترجمان ملا حمداللہ فطرت نے پاکستان پر تجارتی راستے بند کرنے اور مہاجرین کے معاملے پر غیرقانونی دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، اور حالیہ تنازعات کی ذمہ داری اسلام آباد پر ڈالی ہے

January 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں امریکی صدر ٹرمپ کے زیرِ اہتمام تاریخی “بورڈ آف پیس” معاہدے پر دستخط کر دیے۔ 18 دیگر ممالک کے ساتھ اس معاہدے کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غزہ میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور فلسطینی حقوق کا تحفظ ہے

January 22, 2026

وادیٔ تیراہ میں شدید برفباری کے باعث نقل مکانی مشکل ہو گئی، سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں، حکام نے انخلاء کی ڈیڈ لائن 5 فروری تک بڑھا دی

January 22, 2026

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ سہاسک فوانگ کیٹ کیو سے ملاقات کی

January 22, 2026

خوف یا کچھ اور؟ ہیبت اللہ اخوندزادہ تک رسائی محدود کر دی گئی، 7گورنروں کے ذریعے حکومت چلانے کا فیصلہ

جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
خوف یا کچھ اور؟ ہیبت اللہ اخوندزادہ تک رسائی محدود کر دی گئی، 7گورنروں کے ذریعے حکومت چلانے کا فیصلہ

جنوب مشرقی زون کا سربراہ گورنر پکتیا مہراللہ حماد مقرر کیا گیا ہے، جس کے دائرہ اختیار میں پکتیا، پکتیکا، خوست اور غزنی شامل ہیں۔ یہ زون بھی پاکستان کی سرحد، خصوصاً وزیرستان اور دیگر ملحقہ علاقوں کے قریب واقع ہے۔

January 23, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ملک کو سات انتظامی زونز میں تقسیم کرتے ہوئے براہ راست احکامات کے نفاذ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلا باضابطہ اجلاس 21 جنوری بروز بدھ گورنر قندھار کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں نامزد زونل سربراہان نے شرکت کی۔

گورنر قندھار کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق ملا ہیبت اللہ نے ایک حکم نامے کے ذریعے ساتوں زونز کے سربراہان کو اپنے اپنے زون میں شامل صوبوں میں احکامات پر عملدرآمد کا ذمہ دار مقرر کر دیا ہے۔ اس پہلے اجلاس میں سکیورٹی کی صورتحال، منشیات کے خلاف کارروائی اور مہاجرین سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ ملک بھر میں ملا ہیبت اللہ کے احکامات کی یکساں اور مسلسل عملداری کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔

اعلامیے کے مطابق حکم نامے کے تحت زونل سربراہان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اپنے زون میں شامل تمام صوبوں کے گورنروں کے ذریعے امیرِ طالبان کے احکامات نافذ کرائیں اور ان کی مکمل جوابدہی بھی یقینی بنائیں۔ اجلاس کے دوران زیرِ بحث آنے والے متعدد اہم معاملات کو حتمی رہنمائی اور منظوری کے لیے قندھار میں ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دفتر بھجوا دیا گیا۔

قندھار سیکریٹیرٹ سے منسلک ذرائع کے مطابق ملا ہیبت اللہ کی سکیورٹی اور بعض دیگر حساس امور کے پیش نظر نظامِ حکومت میں خاموشی کے ساتھ نئی اصلاحات کی گئی ہیں، جن کے تحت طالبان قیادت کی امیر تک براہ راست رسائی کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔ اب صرف سات زونل سربراہان کو ہی قندھار سیکریٹیرٹ تک رسائی حاصل ہو گی، اور وہ بھی گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں کے ذریعے ملا ہیبت اللہ سے احکامات حاصل کریں گے۔ ہر زون میں شامل صوبے اپنے زونل سربراہ سے احکامات لینے اور اسی کو جواب دہ ہونے کے پابند ہوں گے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے امریکہ کے خلاف جنگ کے دوران جنگی حکمتِ عملی کے طور پر ملک کو زونز میں تقسیم کیا تھا، اور اب ملا ہیبت اللہ نے انہی زونز کو ایک بار پھر بحال کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ہر زون کا سربراہ اسی زونل ہیڈکوارٹر کے صوبے کا گورنر ہو گا، جبکہ دیگر صوبوں کے گورنر اس کے ماتحت اور جواب دہ ہوں گے۔

اس تقسیم کے مطابق مرکزی زون کا سربراہ گورنر کابل حاجی امین اللہ عبید مقرر کیا گیا ہے، جس میں کابل، پروان، کاپیسا، پنجشیر، میدان وردک اور لوگر شامل ہیں، جبکہ غزنی کا ایک حصہ بھی اسی زون میں شامل کیا گیا ہے۔ شمالی زون کی قیادت گورنر بلخ حاجی یوسف وفا کے سپرد کی گئی ہے، جو ازبکستان اور تاجکستان سے ملحقہ شمالی افغانستان کا اہم ترین زون ہے اور اس میں بلخ، جوزجان، سرِ پل اور سمنگان شامل ہیں۔

مغربی زون کا سربراہ گورنر ہرات نور احمد اسلام جار ہیں، جس میں ہرات، بادغیس، فراہ اور غور شامل ہیں۔ یہ زون ایران اور ترکمانستان کی سرحدوں کے ساتھ واقع ہے۔ مشرقی زون کی قیادت گورنر ننگرہار حاجی گل محمد بڑیچ کو سونپی گئی ہے، جس میں ننگرہار، کنر، لغمان اور نورستان شامل ہیں، اور یہ زون پاکستان کے قبائلی اضلاع سے متصل ہے۔

جنوبی زون کا سربراہ گورنر قندھار ملا محمد علی حنفی المعروف ملا شیریں ہیں، جس میں قندھار، ہلمند، ارزگان، زابل اور نیمروز شامل کیے گئے ہیں۔ شمال مشرقی زون کی ذمہ داری گورنر قندوز ملا محمد خان دعوت کے سپرد کی گئی ہے، جس میں قندوز، تخار، بغلان اور بدخشان شامل ہیں اور یہ علاقہ تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔

جنوب مشرقی زون کا سربراہ گورنر پکتیا مہراللہ حماد مقرر کیا گیا ہے، جس کے دائرہ اختیار میں پکتیا، پکتیکا، خوست اور غزنی شامل ہیں۔ یہ زون بھی پاکستان کی سرحد، خصوصاً وزیرستان اور دیگر ملحقہ علاقوں کے قریب واقع ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے حکم نامے کے تحت ملا ہیبت اللہ ان سات زونل گورنروں کے ذریعے حکومت چلانے کا عملی تجربہ کرنے جا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اگرچہ مرکزیت کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، تاہم اس نے طالبان کے اندرونی نظمِ حکومت اور مستقبل کی سیاسی سمت سے متعلق کئی سوالات کو بھی جنم دے دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے بھارت میں میچز شیڈول نہ بدلنے پر ٹی 20 ورلڈ کپ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا

January 22, 2026

طالبان ترجمان ملا حمداللہ فطرت نے پاکستان پر تجارتی راستے بند کرنے اور مہاجرین کے معاملے پر غیرقانونی دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، اور حالیہ تنازعات کی ذمہ داری اسلام آباد پر ڈالی ہے

January 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں امریکی صدر ٹرمپ کے زیرِ اہتمام تاریخی “بورڈ آف پیس” معاہدے پر دستخط کر دیے۔ 18 دیگر ممالک کے ساتھ اس معاہدے کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غزہ میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور فلسطینی حقوق کا تحفظ ہے

January 22, 2026

وادیٔ تیراہ میں شدید برفباری کے باعث نقل مکانی مشکل ہو گئی، سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں، حکام نے انخلاء کی ڈیڈ لائن 5 فروری تک بڑھا دی

January 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *