بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کا “لاپتہ افراد” سے متعلق برسوں سے جاری من گھڑت بیانیہ اس وقت چکنا چور ہو گیا جب مبینہ طور پر لاپتہ قرار دیے جانے والے ہمدان علی عدالت میں پیش ہو گئے۔ اس پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمدان علی کسی “اغوا” کا شکار نہیں تھے بلکہ قانونی کاروائی کے تحت زیرِ حراست تھے، جس سے تنظیم کے جھوٹے پروپیگنڈے کی قلعی کھل گئی ہے۔
راز فاش ہونے کا خوف
رپورٹ کے مطابق ہمدان علی کی عدالت میں پیشی اور قانونی عمل کا حصہ بننے سے دہشت گرد تنظیم کے صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔ بی ایل اے کو یہ خوف لاحق تھا کہ ہمدان علی، عثمان قاضی کے مقدمے کی طرح، تنظیم کے محفوظ ٹھکانوں، سہولت کاروں اور لاجسٹکس کے خفیہ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیں گے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر تنظیم نے اپنے اس اہلکار کو، جو بہت زیادہ معلومات رکھتا تھا، ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا۔
موت اغوا نہیں، “مجرمانہ صفائی” تھی
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہمدان علی کی موت کوئی اتفاقیہ واقعہ یا اغواء کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ بی ایل اے کی جانب سے ایک مایوس کن “اندرونی صفائی” تھی تاکہ تنظیم کے زیرِ زمین ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے اور قانون کے ہاتھوں پکڑے گئے کارندوں کے ذریعے پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔
ریاست مخالف بیانیے کی ناکامی
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اکثر اپنے ہی کارندوں کو ریاست کے خلاف “لاپتہ” کے طور پر پیش کرتی ہیں، لیکن جب وہی افراد قانونی عمل کا حصہ بن کر حقیقت فاش کرنے لگتے ہیں، تو انہیں خود ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ہمدان علی کے واقع جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ عوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں بی ایل اے کے مضحکہ خیز دعوؤں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔