افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ حکمرانی خوف کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کا اعتماد حاصل کر کے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات صوبہ خوست کے دورے کے دوران مرکزی مسجد میں نمازیوں سے خطاب اور مقامی انتظامیہ سے ملاقات کے موقع پر کہی۔ حقانی کے مطابق اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور عوام کے ساتھ تعاون سے عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی، جبکہ موجودہ نظام کو ایک منصفانہ اتھارٹی کے طور پر عوامی مسائل حل کرنے چاہئیں۔
حقانی کا یہ بیانیہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب طالبان کی عملی حکمرانی کا ریکارڈ شدید تنقید کی زد میں ہے۔ موجودہ نظام نہ تو کسی انتخابی عمل کے ذریعے وجود میں آیا اور نہ ہی کسی آئینی فریم ورک کے تحت تشکیل پایا، جبکہ عوامی مینڈیٹ کے بغیر حکمرانی کے دعوے خود تضاد کا شکار نظر آتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کی متعدد رپورٹس میں طالبان کی جانب سے جبری نفاذ، اختلافی آوازوں کو دبانے اور معاشرے کے بڑے حصے، خصوصاً خواتین اور بچیوں، کو سیاسی و سماجی عمل سے باہر رکھنے کی دستاویز بندی کی گئی ہے۔ ایسے میں عوامی رضامندی پر مبنی حکمرانی کا دعویٰ زمینی حقائق سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
موثر حکمرانی کی بنیاد مضبوط ادارے، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، تاہم افغانستان میں فیصلہ سازی محدود حلقوں تک مرکوز ہے، جہاں پالیسیاں مشاورتی عمل کے بجائے فرمانوں کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔ عوامی خطابات اور منتخب افراد کے ساتھ بند کمروں میں ملاقاتیں اب تک نہ تو جامع حکمرانی میں تبدیل ہو سکیں اور نہ ہی شہریوں کے لیے قانونی تحفظ فراہم کر پائی ہیں۔
اسی وجہ سے مبصرین کے نزدیک حقانی کی جانب سے احترام اور اعتماد پر مبنی حکمرانی کی اپیل ایک عملی تبدیلی کے بجائے محض علامتی اور خواہشی پیغام معلوم ہوتی ہے۔
علاقائی سطح پر بھی طالبان کی ساکھ بیانات کے بجائے عملی اقدامات سے ناپی جاتی ہے۔ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے لیے کابل میں قابلِ اعتماد حکمرانی کا مطلب دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ، انسدادِ دہشت گردی وعدوں کی تکمیل اور افغان سرزمین کے دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کو روکنا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کی نگرانی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے گروہوں کی افغانستان میں موجودگی بدستور ایک تشویش ہے۔
پاکستان اور دیگر علاقائی ریاستیں مسلسل اس مؤقف پر قائم ہیں کہ پائیدار استحکام صرف قابلِ تصدیق اقدامات سے ممکن ہے۔ جب تک طالبان جامع حکمرانی، بنیادی حقوق کے احترام اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کا عملی ثبوت فراہم نہیں کرتے، عوامی دل جیتنے کے دعوے خطے میں شکوک و شبہات ہی کو جنم دیتے رہیں گے۔
آخر میں سراج الدین حقانی کے بیانات طالبان کے اعلانیہ مؤقف اور افغانستان کی داخلی حکمرانی و علاقائی سکیورٹی کے زمینی حقائق کے درمیان موجود واضح خلا کو اجاگر کرتے ہیں۔
دیکھیں: اقوام متحدہ کی بریفنگ: افغانستان کی بگڑتی سکیورٹی اور علاقائی خطرات