چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، چین ہمیشہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی دباؤ یا مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جسے ایرانی حکومت اور عوام کو خود حل کرنا چاہیے۔

January 12, 2026

رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام ان کی لاش ان کے بیڈروم سے ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس حکام نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

January 12, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے پاکستان کے ممکنہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے نام سامنے آ گئے ہیں، جن پر ہیڈ کوچ، کپتان اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان رواں ہفتے حتمی مشاورت متوقع ہے

January 12, 2026

لکی مروت میں درہ تنگ کے مقام پر پولیس کی گاڑی کو آئی ای ڈی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں ایس ایچ او رازق خان سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے

January 12, 2026

پاکستان میں متعین تاجکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو محبت، اخوت اور بھائی چارے کی بنیاد پر مستحکم قرار دیا اور ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت دوطرفہ تجارت کو 30 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا

January 12, 2026

افغان طالبان کے اندرونی اختلافات بے نقاب؛ قندھاری اور حقانی قیادت آمنے سامنے

حقانی نیٹ ورک کا تعلق عرب اور غیر ملکی جنگجوؤں سے اس وقت سے ہے جب افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ جاری تھی۔
افغان طالبان کے اندرونی اختلافات بے نقاب؛ قندھاری اور حقانی قیادت آمنے سامنے

قندھاری گروپ طالبان تحریک کا بنیادی مرکز مانا جاتا ہے۔ اس کا آغاز جنوبی افغانستان کے صوبہ قندہار سے ہوا، جہاں سے تحریک کے بانی ملا محمد عمر کا تعلق تھا۔

November 7, 2025

افغان طالبان کی تنظیم ایک متحد اکائی نہیں بلکہ مختلف دھڑوں پر مشتمل ہے، جن میں سب سے طاقتور دو گروپ قندھاری دھڑا اور حقانی نیٹ ورک سمجھے جاتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان اختلافات نہ صرف طاقت کی تقسیم بلکہ جغرافیائی، تاریخی اور نظریاتی بنیادوں پر بھی گہرے ہیں۔

قندھاری دھڑا: طالبان کی اصل بنیاد


قندھاری گروپ طالبان تحریک کا بنیادی مرکز مانا جاتا ہے۔ اس کا آغاز جنوبی افغانستان کے صوبہ قندہار سے ہوا، جہاں سے تحریک کے بانی ملا محمد عمر کا تعلق تھا۔ اسی علاقے سے موجودہ اعلیٰ نظریاتی رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کا اثرورسوخ بھی قائم ہے۔ قندھاری دھڑے کے اراکین زیادہ تر درانی پشتون قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، جو طالبان کے روایتی اور نظریاتی پہلوؤں کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک: مشرقی افغانستان کی طاقت


اس کے برعکس حقانی نیٹ ورک ایک علیحدہ اور نسبتاً خودمختار گروہ کے طور پر ابھرا۔ اس کی قیادت جلال الدین حقانی نے کی، جو مشرقی افغانستان کے لویہ پکتیا خطے سے تعلق رکھتے تھے اور زدران قبیلے سے وابستہ تھے۔ یہ گروہ 1990 کی دہائی کے وسط میں طالبان میں شامل ہوا اور ملا عمر کی قیادت تسلیم کی۔ تاہم، طالبان کے ابتدائی دور میں حقانی نیٹ ورک کو زیادہ اہمیت نہ دی گئی اور جلال الدین حقانی کو صرف سرحدی و قبائلی امور کی وزارت سونپی گئی۔

عملی فرق اور جنگی حکمتِ عملی


قندھاری گروپ کی توجہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں روایتی جنگی کارروائیوں اور علاقے کے کنٹرول پر مرکوز رہی۔ اس کے برعکس، حقانی نیٹ ورک اپنی پیچیدہ اور ہائی پروفائل کارروائیوں کے باعث مشہور ہوا، جن میں کابل اور دیگر بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر حملے شامل ہیں۔ موجودہ دور میں سراج الدین حقانی، جو کابل میں قائمہ مقام وزیر داخلہ ہیں، اس نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں۔

بیرونی تعلقات اور علاقائی اثرات


دونوں دھڑوں کے بیرونی تعلقات بھی ان کی جغرافیائی موجودگی کے مطابق مختلف ہیں۔ مشرقی افغانستان میں موجود حقانی نیٹ ورک کی تحریک طالبان پاکستان سے گہرے روابط ہیں اور اسے ایک اتحادی اور ممکنہ بیک اپ فورس کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

دوسری جانب، جنوبی اور مغربی علاقوں میں جڑے قندھاری گروہ کا جھکاؤ ایران کی سرحد کے قریب ہونے کے باعث بلوچ علیحدگی پسند تنظیم کی سرپرستی کی طرف زیادہ ہے۔

عرب جنگجوؤں سے تعلقات اور عالمی اثرات


حقانی نیٹ ورک کا تعلق عرب اور غیر ملکی جنگجوؤں سے اس وقت سے ہے جب افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ جاری تھی۔ یہ تعلقات آج بھی قائم ہیں اور اس سے انہیں مالی اور افرادی وسائل کی ایسی مدد حاصل ہے جو قندھاری قیادت سے الگ ہے۔

اندرونی کشمکش اور علاقائی عدم استحکام


طالبان کے ان دونوں اہم دھڑوں کے درمیان طاقت اور اثرورسوخ کی یہ کشمکش نہ صرف تنظیم کے اندرونی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہے بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی اور جغرافیائی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

یہ اندرونی مقابلہ اور بیرونی عسکری اتحادوں کا پیچیدہ جال خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور آج جاری رہے گا؛ سرحدی کشیدگی کے باوجود مذاکرات جاری

متعلقہ مضامین

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، چین ہمیشہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی دباؤ یا مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جسے ایرانی حکومت اور عوام کو خود حل کرنا چاہیے۔

January 12, 2026

رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام ان کی لاش ان کے بیڈروم سے ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس حکام نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

January 12, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے پاکستان کے ممکنہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے نام سامنے آ گئے ہیں، جن پر ہیڈ کوچ، کپتان اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان رواں ہفتے حتمی مشاورت متوقع ہے

January 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *