"> ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس: معاشی استحکام اور کامیاب سفارت کاری، عالمی افق پر پاکستان کی بڑی جیت - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس: معاشی استحکام اور کامیاب سفارت کاری، عالمی افق پر پاکستان کی بڑی جیت

ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس 2026 میں عالمی ماہرین نے پاکستان کے معاشی استحکام، آزاد خارجہ پالیسی اور امریکہ-ایران تنازع میں اس کے کامیاب ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے اسے خطے کی اہم ترین طاقت قرار دیا ہے
ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس 2026 میں عالمی ماہرین نے پاکستان کے معاشی استحکام، آزاد خارجہ پالیسی اور امریکہ-ایران تنازع میں اس کے کامیاب ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے اسے خطے کی اہم ترین طاقت قرار دیا ہے

ہارورڈ پاکستان کانفرنس 2026: 700 مندوبین اور بین الاقوامی مقررین نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات، ثقافتی گہرائی اور اسٹریٹجک اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی

April 13, 2026

ہارورڈ یونیورسٹی، میساچوسٹس کے تاریخی ڈیوڈ روبنسٹین ٹری ہاؤس میں “ہارورڈ پاکستان کانفرنس 2026” کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مندوبین، دانشوروں اور پالیسی سازوں نے پاکستان کے مستقبل، معاشی اصلاحات اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

“صلاحیت سے کارکردگی تک” کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں 700 سے زائد شرکاء، 55 ممتاز مقررین اور 17 مختلف پینلز نے شرکت کی۔ شرکاء میں پاکستانی ڈائسپورا، بین الاقوامی طلبہ، ہارورڈ کی فیکلٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے پاکستان کو چیلنجز کے باوجود ایک انتہائی لچکدار اور باصلاحیت قوم قرار دیا۔

اقتصادی اصلاحات اور معاشی استحکام

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب بحران سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کووڈ اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستان نے اپنی بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کیں۔ گوادر بندرگاہ کی مکمل فعالیت اور مارچ 2026 میں ترسیلاتِ زر کے ریکارڈ اضافے کو حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا ثمر قرار دیا گیا۔ اگرچہ پروفیسر عاطف میاں اور پروفیسر ڈیرون عجم اوغلو نے طویل مدتی پالیسی فریم ورک اور ادارہ جاتی مضبوطی پر زور دیا، تاہم مجموعی اتفاقِ رائے یہی تھا کہ اقتصادی اصلاحات نے معیشت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔

خارجہ پالیسی اور پاکستان کا ثالثی کردار

خارجہ پالیسی کے سیشن میں شرکاء نے پاکستان کی آزاد اور متوازن خارجہ پالیسی کی ستائش کی۔ امریکی سینیٹر کرس وین ہولن اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکہ-ایران تنازع میں پاکستان کے “ثالثی کردار” کو عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ ڈاکٹر معید یوسف نے خطے میں بھارت کے “بالادستی پر مبنی رویے” کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قومی سلامتی اور طاقت کا توازن

پاکستان کے اندرونی نظام اور طاقت کے توازن پر گفتگو کرتے ہوئے مائیکل کوگل مین نے کہا کہ پاکستان کے مخصوص جغرافیائی اور اسٹریٹجک حالات اسٹیبلشمنٹ کے فعال کردار کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مذاکرات میں پاکستان کے کلیدی کردار کو اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت قرار دیا۔

رواداری اور سماجی ہم آہنگی

کانفرنس کے ایک اہم سیشن میں پاکستان میں فرقہ واریت کے تاثر کو مسترد کیا گیا۔ پروفیسر حسن عباس اور دیگر ماہرین نے واضح کیا کہ ریاستی سطح پر پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ تعصب موجود نہیں۔ سندھ کی معیشت میں ہندو برادری کے کلیدی کردار اور ملک میں موجود تاریخی گرجا گھروں کو پاکستان کے کثیر الثقافتی اور روادار معاشرے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔

عزم، حوصلہ اور ثقافتی گہرائی

پاکستان کی جرات اور حوصلے کی مثال پیش کرنے کے لیے شہباز تاثیر اور ظفر مسعود نے اپنی زندگی کے غیر معمولی تجربات بیان کیے، جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔ ثقافتی سیشن میں ماہرہ خان، مومینہ مستحسن، فیصل کپاڈیا اور ایچ ایس وائی جیسے نامور فنکاروں نے پاکستان کے آرٹ، فیشن اور متنوع ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے پاکستانی صحافیوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *