چودہ سو برس پہلے شیرِ خدا علیؓ نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ طاقت صرف تلوار سے نہیں بلکہ کردار اور یقین سے پیدا ہوتی ہے، مسلم دنیا اگر اپنے اندر اتحاد، خود اعتمادی اور اصولوں پر استقامت پیدا کرے تو عالمی سیاست میں اس کی آوازیقینا زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔

March 11, 2026

بلخ کے طالبان گورنر کے ترجمان نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قبضے میں لیے گئے امریکی ہتھیاروں سے ہی واشنگٹن کو سخت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت اور ارادہ رکھتے ہیں

March 11, 2026

کابل کے علاقے قصہ بہ روڈ پر جی ڈی آئی کی گاڑی پر حملے میں 4 اہلکار ہلاک ہو گئے، جس کی ذمہ داری نیشنل ریزسٹنس فرنٹ( این آر ایف) نے قبول کر لی ہے

March 11, 2026

سعودی عرب پاکستان کی پیٹرولیم ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے بحری جہازوں کے ذریعے خام تیل فراہم کر رہا ہے، جس سے سپلائی چین مستحکم ہوگی

March 11, 2026

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ای سے ٹیلیفونک گفتگو؛ خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارت کاری کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

March 11, 2026

نیویارک میں بارودی مواد نصب کرنے کی کوشش میں افغان نژاد امریکی شہری ابراہیم قیومی گرفتار؛ ملزم کے داعش سے روابط اور 2.5 ملین ڈالر کے گھر میں رہائش کا انکشاف

March 11, 2026

یوم علی: فاتح خیبر کا نام آج بھی یہود کیلئے ہیبت کا باعث ہے

چودہ سو برس پہلے شیرِ خدا علیؓ نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ طاقت صرف تلوار سے نہیں بلکہ کردار اور یقین سے پیدا ہوتی ہے، مسلم دنیا اگر اپنے اندر اتحاد، خود اعتمادی اور اصولوں پر استقامت پیدا کرے تو عالمی سیاست میں اس کی آوازیقینا زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
حضرت علی کا یوم شہادت

بدر میں  تین گنا بڑے دشمن کے سردار ان کی تلوار کے سامنے ٹھہر نہ سکے،  خیبر قلعے کا دروازہ جسے کئی آدمی مل کر بھی ہلا نہیں سکتے تھے، تن تنہا اس قوت سے اکھاڑ پھینکا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں

March 11, 2026

 کچھ نام محض تاریخ کے صفحات میں باقی نہیں رہتے بلکہ صدیوں تک قوموں کے حوصلوں  میں زندہ رہتے ہیں وہ نام اایک عہد، ایک مزاج اور ایک مزاحمت کی علامت بن جاتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ دلیر شخصیات سے بھری پڑی ہے مگر جب بھی جرأت، عدل اور حق کے لئے سر اٹھا کر کھڑے ہونے کی بات ہوتی ہے تو ذہن بے اختیارشیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہ کی طرف جاتا ہے۔ 21 رمضان المبارک کا دن اس عظیم ہستی کی شہادت کو یاد کرنے کا دن ہے، یہ وہ دن ہے جب روئے زمین سے قرآن کے ظاہر و باطن کا عالم رخصت ہو گیا۔

آج سے تقریباً چودہ سو برس پہلے 40 ہجری میں، مسجدِ کوفہ میں، فجر کی نماز کے وقت ایک خارجی عبدالرحمن ابنِ ملجم نے حالت سجدہ میں زہر آلود تلوار سے حضرت علی پر بزدلانہ وار کیا جس کے دو دن بعد حیدرِ کرار، اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔مگر اپنی بہادری، باطل کی مخالفت اور مزاحمت وہ اپنی قوم کو وراثت میں دے گئے چاہے واقعہ کربلا ہو یا حالیہ ایرانی قیادت کی شہادت تاریخ میں لکھا جائے گا کہ دشمن کبھی علی کے وارثین کو جھکا نہیں سکا خواہ طاقت میں ان سے کتنا ہی بڑا کیوں نہ تھا ۔ حالیہ ایران اسرائیل اور امریکہ جنگ میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت ایران کی بڑی قیادت کی شہادت بھی اسی بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ باطل کے سامنے جھکے نہیں، ڈٹے رہے  دشمن اسلام کی تاریخ سے بخوبی واقف ہے، حالانکہ مسلمانوں کا جاہ و جلال اور رعب و دبدبہ ماضی جیسا شاہانہ نہیں رہا مگر ان کی ہیبت آج بھی کافروں کے دل میں پہلے کی طرح طاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک مغرب کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھتے ہیں

حضرت علیؓ کی زندگی شجاعت اور استقامت کی ایسی مثال ہے جس نے اسلام کی تاریخ کو نئی سمت دی۔ بدر میں  تین گنا بڑے دشمن کے سردار ان کی تلوار کے سامنے ٹھہر نہ سکے،  خیبر قلعے کا دروازہ جسے کئی آدمی مل کر بھی ہلا نہیں سکتے تھے، تن تنہا اس قوت سے اکھاڑ پھینکا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ علی کی جواں مردی سے کفار کے لشکر و قلعے کانپ اٹھتے تھے۔ دنیا جاتی ہے کہ علی حنین و بدر میں دشمن سے مارا نہیں گیا، ان پہ ضربت اس وقت لگائی گئی جب ان کا سر سجدے میں تھا

جب گردنیں جھکی ہوں تو سر کاٹتے ہیں لوگ
جھکتا نہیں وہ سر جو سدا سرفراز ہو

اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ایران کی تاحال جاری مزاحمت میں فاتح خیبر جیسی جواں مردی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ۔ حالیہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو یقین تھا کہ ایران شدید عسکری دباؤ، قیادت پر حملوں اور مسلسل بمباری کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکے گا اور ہتھیار ڈال دے گا ۔عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کا بڑا حلقہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اگر حملے اسی طرح جاری رہے تو چند گھنٹوں میں ہی ایران کی قوت مزاحمت ختم ہو جائے گی اور وہ جلد گھٹنے ٹیک دے گا۔ مگر ایران نے نہ صرف یہ اندازے غلط ثابت کر دیے بلکہ تا حال خود سے ہر لحاظ میں مضبوط اور بڑے دشمن کے ساتھ پنجہ آزمائی کر رہا ہے ۔

یہ جنگ اب بھی جاری ہے اور ایران نے نہ صرف مزاحمت کی ہے بلکہ کئی ایسے تصورات کو بھی چیلنج کر دیا ہے جنہیں برسوں سے ناقابلِ تردید حقیقت سمجھا جاتا تھا۔ دنیا کو بتایا جاتا تھا کہ اسرائیل کا دفاعی نظام آئرن ڈوم ناقابلِ تسخیر ہے اور اس کی فضاؤں تک کسی میزائل یا ڈرون کی رسائی ممکن نہیں۔ مگر حالیہ حملوں میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے اس تصور  کو متزلزل کر دیا اور اسرائیل میں گرنے والے ڈرونز اور گونجنے والی دھماکوں کی آوازیں پوری دنیا نے دیکھی اور سنی۔ ایران نے دکھایا  کہ آئرن ڈوم محض ایک افسانہ ہے

  ایک اور تصور یہ تھا کہ امریکہ کی عسکری طاقت ایسی ہے جس تک کوئی ہاتھ نہیں پہنچ سکتا اور اس کے فوجی اڈے محفوظ ترین ہیں۔ مگر حالیہ کشیدگی میں ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دیا کہ طاقت کا توازن اتنا یکطرفہ نہیں جتنا دنیا کو باور کرایا جاتا رہا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ اور اسرائیل کی طاقت کا بڑا حصہ صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔ وہ دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں مزاحمت ممکن نہیں۔ مگر جب کوئی ریاست ان کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکھڑی ہوتی ہے تو نہ صرف میدانِ جنگ میں  بلکہ عالمی سطح پر بھی ان شیطانی قوتوں کی ساکھ کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچتا ہے

ایران کی قیادت خود کو مکتبِ علیؓ سے جوڑتی ہے اور یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی مزاحمت اسی روایت کا تسلسل ہے جس میں سر تو دیا جا سکتا ہے مگر سر جھکایا نہیں جاتا۔ چاہے اس مؤقف سے اختلاف کیا جائے یا اتفاق، مگر یہ حقیقت ہے کہ ایران نے کم وسائل کے باوجود بڑی طاقتوں کے مقابلے میں کھڑے ہو کر دنیا کو بتایا ہے کہ جنگ جواں مردی، ایمان اور جذبے سے لڑی جاتی ہے، اور اس جنگ نے یہ حقیقت بھی دنیا پر آشکار کر دی ہے کہ امریکا اور اسرائیل جتنا باور کرواتے ہیں اتنے مضبوط نہیں ہیں

آج  مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر طاقت کے تصادم کا مرکز بنا ہوا ہے اگر مسلم دنیا غور کرے تو اس جنگ میں ان کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے ،چودہ سو برس پہلے شیرِ خدا علیؓ نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ طاقت صرف تلوار سے نہیں بلکہ کردار اور یقین سے پیدا ہوتی ہے، مسلم دنیا اگر اپنے اندر اتحاد، خود اعتمادی اور اصولوں پر استقامت پیدا کرے تو عالمی سیاست میں اس کی آوازیقینا زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔

دیکھئیے:ایران میں جنگ کے اثرات: شہباز شریف کا پاکستان میں کفایت شعاری کے مثالی اقدامات کا اعلان، تعلیمی ادارے بند اور دفاتر میں چار روزہ ورکنگ کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

بلخ کے طالبان گورنر کے ترجمان نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قبضے میں لیے گئے امریکی ہتھیاروں سے ہی واشنگٹن کو سخت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت اور ارادہ رکھتے ہیں

March 11, 2026

کابل کے علاقے قصہ بہ روڈ پر جی ڈی آئی کی گاڑی پر حملے میں 4 اہلکار ہلاک ہو گئے، جس کی ذمہ داری نیشنل ریزسٹنس فرنٹ( این آر ایف) نے قبول کر لی ہے

March 11, 2026

سعودی عرب پاکستان کی پیٹرولیم ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے بحری جہازوں کے ذریعے خام تیل فراہم کر رہا ہے، جس سے سپلائی چین مستحکم ہوگی

March 11, 2026

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی چینی ہم منصب وانگ ای سے ٹیلیفونک گفتگو؛ خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارت کاری کو فروغ دینے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

March 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *