"> آزاد کشمیر میں صحت کارڈ بحال، نئے مالیاتی ماڈل کے تحت سہولتیں 16 جنوری سے شروع - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آزاد کشمیر میں صحت کارڈ بحال، نئے مالیاتی ماڈل کے تحت سہولتیں 16 جنوری سے شروع

آزاد کشمیر میں صحت کارڈ سہولت نئے مالیاتی ماڈل کے تحت بحال، 16 جنوری سے نافذ۔ بی آئی ایس پی رجسٹرڈ خاندانوں کا مفت علاج جاری رہے گا جبکہ عام شہریوں کے لیے ‘کوپیمنٹ’ ماڈل متعارف ہوگا
آزاد کشمیر میں صحت کارڈ سہولت نئے مالیاتی ماڈل کے تحت بحال، 16 جنوری سے نافذ۔ بی آئی ایس پی رجسٹرڈ خاندانوں کا مفت علاج جاری رہے گا جبکہ عام شہریوں کے لیے 'کوپیمنٹ' ماڈل متعارف ہوگا

وفاقی کابینہ نے صحت سہولت پروگرام کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے بھی اس

January 15, 2026

آزاد کشمیر کے شہریوں کے لیے صحت کارڈ کی سہولت ایک نئے مالیاتی فارمولے کے تحت بحال کی جا رہی ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر انتظامیہ کے درمیان طے پانے والے نئے انتظامات کے مطابق صحت کارڈ کے لیے الگ سے فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے صحت سہولت پروگرام کے لیے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد آزاد کشمیر حکومت نے بھی اس سکیم کے لیے اپنے بجٹ میں رقم رکھی ہے۔

نئے نظام کے تحت دو طرح کی سہولیات دی جائیں گی: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں رجسٹرڈ غریب خاندانوں کا مفت علاج جاری رہے گا، جبکہ عام شہریوں کے لیے صحت کارڈ کو ‘کوپیمنٹ’ ماڈل پر منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں مریضوں کو علاج کے ایک حصے کی ادائیگی خود کرنی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق 16 جنوری 2026 سے مختلف مراحل میں پینل اسپتالوں میں یہ سہولت دوبارہ فعال کر دی جائے گی، جس سے خطے کے شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

دیکھیں: عمران احمد صدیقی کابل میں پاکستان کے نئے سفیر تعینات؛ عبید نظامی جرمنی میں پاکستان کے سفیر ہوں گے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *