پشتونولی کوئی عام سماجی روایت نہیں، بلکہ پشتون معاشرت کی اخلاقی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر ضابطہ ہے جو انصاف، وقار، مہمان نوازی اور پناہ جیسی بنیادی قدروں پر قائم ہے۔ اس میں میلمستیا (مہمان نوازی)، نانواتئی (پناہ دینا)، بدل (انصاف)، اور جرگہ (ثالثی) جیسے اصول شامل ہیں، جو نسلوں سے پشتون معاشرے کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ مگر یہی ضابطہ آج افغان طالبان کے طرزِ عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، جو اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت اس روایت کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔
پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کے عوام کے لیے جو قربانیاں دیں جن میں چالیس لاکھ سے زائد مہاجرین کو پناہ دینا، تعلیم و صحت کی سہولتیں فراہم کرنا، روزگار دینا اور ان کی ثقافت و شناخت کا تحفظ شامل ہے، وہ پشتونولی کی حقیقی تصویر ہیں۔ پاکستان نے نانواتئی اور میلمستیا کی روح کے مطابق افغان مہاجرین کو کھلے دل سے اپنا سمجھ کر رکھا، حتیٰ کہ اپنی معیشت، سلامتی اور معاشرتی فضا پر بھاری بوجھ کے باوجود انہیں کبھی بے یار و مددگار نہ چھوڑا۔
اس کے برعکس افغان طالبان نے اسی پشتونولی کی روح کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ یو این ایم اے کے مطابق طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی جیسے دشمن گروہوں کو پناہ دینا، انہیں اسلحہ، نقل و حرکت اور افغان سرزمین بطور لانچنگ پیڈ استعمال کرنے کی اجازت دینا، پشتونولی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پشتونولی میں ایک واضح اصول ہے کہ اگر مہمان میزبان کے گھر کو کسی پڑوسی کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرے تو میزبان خود دشمن تصور کیا جاتا ہے اور اپنی عزت کھو دیتا ہے۔ طالبان کی یہی روش نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
افغان طالبان کا یہ دعویٰ کہ وہ اپنے علاقے میں کسی گروہ کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت نہیں دیتے، زمینی حقائق کے سامنے بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ نہ صرف ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں کھلے عام شوریٰ اجلاس کرتی ہے بلکہ ان کے جنگجو امریکی اسلحے کے ساتھ ویڈیوز میں نظر آتے ہیں وہی اسلحہ جو امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں تاجکستان میں چینی کارکنوں پر حملہ بھی افغان سرزمین سے کیا گیا، جس سے افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہوں کے علاقائی عزائم بے نقاب ہوئے۔
پاکستان نے بارہا جرگہ کی روایت کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات، بارڈر مینجمنٹ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت کی، لیکن اس کے جواب میں اکثر بارڈر پر فائرنگ، الزامات اور یکطرفہ بیانات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی ریاست نے ہمیشہ قانون، انصاف اور بدل کے اصول کے مطابق صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں، نہ کہ افغان عوام کے خلاف، جنہیں پاکستان آج بھی اپنا بھائی سمجھتا ہے۔
اس کے مقابلے میں طالبان ایک ایسے دشمن گروہ—ٹی ٹی پی—کو پناہ دیتے ہیں جس کے حملوں میں صرف گزشتہ چند برسوں میں سیکڑوں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف پشتونولی کی مکمل پامالی کی ہے، بلکہ طالبان حکومت کی اخلاقی ساکھ کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے پشتونولی کا نام لیا، مگر اس کی اصل روح کو قتل کیا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ طالبان روایت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان نے اس روایت کی اصل پاسداری کی ہے۔ طالبان، اپنی سخت گیر سوچ، علاقائی عزائم اور عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس سے وابستگی کے باعث، نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خطرے میں دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحدی کارروائیاں کسی جارحیت کا اظہار نہیں بلکہ پشتونولی کے بدلے اور دفاع کے بالکل وہی اصول ہیں، جنہیں طالبان خود نظرانداز کرتے آئے ہیں۔
آج صورتحال پوری دنیا کے سامنے کھل چکی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، بھائی چارہ، میزبانی اور انصاف کی روایت نبھائی ہے۔ جبکہ طالبان نے اسی روایت کے نام پر سب سے بڑی خیانت کی ہے—اپنے دشمنوں کو پناہ دے کر، اپنے پڑوسی کو کمزور کر کے اور پشتونولی کو دہشت گردی کے جواز کے طور پر استعمال کر کے۔
اگر طالبان واقعی پشتونولی کے وارث بننا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اس روایت کے بنیادی اصول پر واپس آنا ہوگا: اپنے مہمان کو اسلحہ نہ پکڑائیں، اپنے پڑوسی پر حملہ نہ کروائیں، اور اس مقدس کوڈ کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے اسے امن، بھائی چارے اور انصاف کا ذریعہ بنائیں۔