"> سی سی ٹی وی فوٹیج میں بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے تضادات بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھوک کے دعوے اور شاہانہ ضیافت: راجہ ناصر، محمود اچکزئی اور بیرسٹر گوہر کی ویڈیو وائرل

سوکھی روٹی اور سادہ دودھ کے دعوے بے نقاب؛ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کی پرتعیش ضیافت نے نام نہاد انقلابی بیانیے کی قلعی کھول دی
سوکھی روٹی اور سادہ دودھ کے دعوے بے نقاب؛ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کی پرتعیش ضیافت نے نام نہاد انقلابی بیانیے کی قلعی کھول دی

یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی ہے جب ان قائدین کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور بھوک سے نڈھال ہو رہے ہیں۔ بالخصوص بیرسٹر گوہر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ محض سوکھی روٹی اور سادہ دودھ پر گزارہ کر رہے ہیں

February 19, 2026

ملک میں ‘آزادی’ اور ‘انقلاب’ کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی سیاسی قیادت کے قول و فعل کا تضاد ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج نے ان انقلابی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے، جس میں بیرسٹر گوہر علی خان، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو پرتعیش کھانے، سیور فوڈ، پراٹھے اور کوئٹہ چائے سے لطف اندوز ہوتے دکھایا گیا ہے۔

یہ فوٹیج ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی ہے جب ان قائدین کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور بھوک سے نڈھال ہو رہے ہیں۔ بالخصوص بیرسٹر گوہر کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ وہ محض سوکھی روٹی اور سادہ دودھ پر گزارہ کر رہے ہیں، تاہم منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو میں مرغن غذاؤں اور چائے کی ضیافت نے ان تمام دعوؤں کو مشکوک بنا دیا ہے۔

عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس ‘نام نہاد آزادی’ اور جس ‘انقلاب’ کی نوید سنائی جا رہی تھی، اس کا مقصد صرف قیادت کے لیے آسائشیں اور عوام کے لیے محض مشکلات پیدا کرنا ہے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ جو قیادت بند کمروں میں شاہانہ ضیافتوں سے مستفیض ہو رہی ہو اور باہر عوام کو گمراہ کن بیانیے دے رہی ہو، وہ سڑکوں پر موجود عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کرنے میں قطعی سنجیدہ نہیں ہو سکتی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے اس ‘انقلابی بیانیے’ پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس کے نام پر عوام کو متحرک کیا جاتا رہا ہے۔ قیادت کے اس طرزِ عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انقلابی نعرے محض سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہیں، جبکہ حقیقت میں عوامی مفاد اور سادگی ان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین اس تضاد کو “عوام متاثر اور لیڈر مستفیض” کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں، جو اس نام نہاد جدوجہد کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *