مزاحمتی محاذ کے مرکزی رہنما جنرل اکرام الدین سری کو ایران کے دارالحکومت تہران میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ واقعہ بدھ کی رات تقریباً 9 بجے اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے دفتر سے گھر واپس جا رہے تھے۔ افغان میڈیا کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے راستے میں جنرل اکرام الدین سری کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے اور حملہ آور فائرنگ کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس واقعے سے متعلق باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی حملہ آوروں کی شناخت یا قتل سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے پس منظر میں مزاحمتی محاذ کے اندرونی اختلافات کارفرما ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران میں مقیم مزاحمتی محاذ کے اراکین کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے شدید اختلافات پائے جا رہے تھے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ نیز جنرل اکرام الدین سریع کو دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں۔
جنرل اکرام الدین سریع ایران میں مزاحمتی محاذ کے اراکین کے درمیان تنظیمی ہم آہنگی کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے اور انہیں محاذ کی قیادت میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ اکرام الدین سریع سابقہ جمہوری دور میں جنرل کے عہدے پر فائز رہے تھے اور بغلان اور تخار صوبوں میں پولیس چیف کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔