راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت پی ٹی آئی کارکن محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔

August 11, 2026

امریکہ میں پی ٹی ایم کی تقریب کے تناظر میں شائع تجزیے میں آمو سے اباسین کے نعرے کو خطے کی تاریخی و جغرافیائی حقیقتوں سے منافی اور غیر پشتون آبادیوں کی شناخت کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

August 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا معاملہ ستمبر 2026 تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے نئی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافے کی حمایت کی ہے۔

August 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی مطابق طالبان ایک مسلح تحریک سے شفاف اور جواب دہ ریاستی نظام کی طرف منتقل ہونے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے سکیورٹی اداروں میں احتساب کا شدید فقدان ہے۔

August 11, 2026

پنجگور میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے 5 خوارج کو ہلاک کر دیا، ہلاک دہشت گردوں میں اہم کمانڈر بھی شامل ہے۔

August 11, 2026

مکہ دفاعی معاہدے نے بھارت اور اسرائیل کی تزویراتی نیندیں اڑا دیں، بھارتی میڈیا نے اسے خطے میں طاقت کا نیا توازن قرار دے دیا۔

August 11, 2026

مودی کا دورۂ اسرائیل: بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی میں تزویراتی تبدیلی اور علاقائی اثرات

بھارتی وزیرِ اعظم کا حالیہ دورۂ اسرائیل دہلی کی دہائیوں پرانی ‘توازن کی پالیسی’ سے انحراف کا مظہر ہے، جس سے ایران کے ساتھ تعلقات اور خلیج میں مقیم لاکھوں بھارتی تارکینِ وطن کے مفادات داؤ پر لگ سکتے ہیں
بھارتی وزیرِ اعظم کا حالیہ دورۂ اسرائیل دہلی کی دہائیوں پرانی 'توازن کی پالیسی' سے انحراف کا مظہر ہے، جس سے ایران کے ساتھ تعلقات اور خلیج میں مقیم لاکھوں بھارتی تارکینِ وطن کے مفادات داؤ پر لگ سکتے ہیں

اسرائیل میں نریندر مودی کے خطاب کو ایران اور عرب دنیا میں واضح صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت اب اسرائیل کے قریب جبکہ ایران سے دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے

March 6, 2026

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے ساتھ کھلی صف بندی نے جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بھارت کی اس دیرینہ پالیسی سے واضح انحراف ہے جس کے تحت وہ اسرائیل، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ بیک وقت مستحکم تعلقات استوار رکھتا تھا۔

ڈی سی جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل محض روایتی سفارت کاری نہیں بلکہ اسرائیل اور بالواسطہ طور پر امریکہ کے ساتھ ایک واضح سیاسی اتحاد ہے، جس نے اسرائیل، خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان بھارت کی دیرینہ توازن کی پالیسی کو کمزور کر دیا ہے۔

مودی کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ عوامی سطح پر یکجہتی اور ایران سے دوری دہلی اور تہران کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے، جس کے باعث امریکی دباؤ کے تحت بھارت کے لیے چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اسرائیل میں نریندر مودی کا خطاب اور دفاعی تعاون پر غیر معمولی گفتگو کو تہران اور عرب دنیا میں ایک مخصوص فریق کے انتخاب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں مودی کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اب واشنگٹن اور تل ابیب کی خوشنودی کے لیے اپنے روایتی شراکت دار ایران کے ساتھ تعلقات کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے تیار ہے۔

اس تزویراتی تبدیلی کا سب سے بڑا اثر ایران میں بھارت کے اسٹریٹجک منصوبے ‘چابہار بندرگاہ’ پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ واشنگٹن کے دباؤ اور اپریل 2026 تک پابندیوں سے استثنیٰ کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس منصوبے کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے، جس سے نہ صرف بھارت کو 120 ملین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ خطے میں اس کی اقتصادی رسائی بھی محدود ہو جائے گی۔

علاوہ ازیں خلیجی ممالک میں مقیم تقریباً 80 لاکھ سے زائد بھارتی تارکینِ وطن کے لیے بھی اس پالیسی کے منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق، بھارت کو سالانہ 129 ارب ڈالر کی خطیر ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں، جن کا بڑا حصہ خلیج سے آتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں یہ بیانیہ مضبوط ہوا کہ بھارت اسرائیل کے حامی سلامتی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے، تو ان ممالک میں مقیم بھارتی شہریوں کو سماجی ردِعمل، ویزا پابندیوں اور کام کی جگہوں پر امتیاز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارت کی اس نئی حکمتِ عملی نے جہاں اسے دفاعی اور تکنیکی میدان میں اسرائیل کے قریب کر دیا ہے، وہاں مغربی ایشیا کی پیچیدہ اور حساس کشیدگیوں کو بھارت کے لیے درآمد کرنے کا خطرہ بھی پیدا کر دیا ہے، جس کی قیمت تزویراتی اور معاشی طور پر مستقبل میں بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔

دیکھیے: مودی اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ایران کے خلاف ‘یہود و ہنود’ گٹھ جوڑ پر عوامی تشویش

متعلقہ مضامین

راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت پی ٹی آئی کارکن محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔

August 11, 2026

امریکہ میں پی ٹی ایم کی تقریب کے تناظر میں شائع تجزیے میں آمو سے اباسین کے نعرے کو خطے کی تاریخی و جغرافیائی حقیقتوں سے منافی اور غیر پشتون آبادیوں کی شناخت کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

August 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا معاملہ ستمبر 2026 تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے نئی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافے کی حمایت کی ہے۔

August 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی مطابق طالبان ایک مسلح تحریک سے شفاف اور جواب دہ ریاستی نظام کی طرف منتقل ہونے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے سکیورٹی اداروں میں احتساب کا شدید فقدان ہے۔

August 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *