وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت اور طبی معائنے کے معاملے پر حکومت نے اپنی آئینی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ علاج اور معائنے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
اپنے بیان میں وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ماہر ڈاکٹروں اور طبی عملے کو رسائی فراہم کی جا چکی ہے اور اگر پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت چاہے تو اپنے نمائندوں کو بھی طبی معائنے کے عمل کے دوران موجود رکھ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ بعض مواقع پر خود پارٹی کے اندرونی فیصلوں اور رویوں کے باعث یہ عمل متاثر ہوا۔
محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ زیرِ حراست افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ ان کے مطابق عمران خان کے علاج اور صحت سے متعلق تمام اقدامات ضابطوں اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں، اور اگر مزید طبی معائنے یا چیک اَپ کی ضرورت پیش آئی تو وہ بھی یقینی بنائے جائیں گے۔
وزیرِ داخلہ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حساس معاملے کو سیاسی رنگ دینا یا غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور حقائق مسخ ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا تقاضا ہے کہ انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔