وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب آئندہ ہفتے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس فراہم کرے گا، جبکہ سابقہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو بھی طویل مدت کے لیے رول اوور کر دیا گیا ہے

April 15, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

April 15, 2026

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

حکام کے مطابق یہ منشیات ایک ٹرانزٹ گاڑی کے ذریعے افغانستان سے قزاقستان منتقل کی جا رہی تھیں۔ گمرک پر اسکیننگ اور تفصیلی تلاشی کے دوران دیگوں کے اندر بنائے گئے خفیہ خانوں سے چرس برآمد کی گئی۔

April 14, 2026

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

April 14, 2026

پاک آسٹریا تعلقات: شہباز شریف کا دورۂ ویانا عوامی اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم سنگ میل قرار

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ آسٹریا تین دہائیوں بعد اعلیٰ سطحی روابط کی بحالی کا پیش خیمہ؛ تجارت، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کے نئے باب کا آغاز
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ آسٹریا تین دہائیوں بعد اعلیٰ سطحی روابط کی بحالی کا پیش خیمہ؛ تجارت، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کے نئے باب کا آغاز

وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ ویانا۔ پاک آسٹریا تعلقات میں اقتصادی تعاون کے فروغ، سرمایہ کاری کے امکانات، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور چانسلر کرسچن اسٹوکر کے ساتھ ملاقاتوں میں دوطرفہ شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

February 17, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا دو روزہ سرکاری دورہ آسٹریا دونوں ممالک کے مابین سفارتی و اقتصادی روابط کی بحالی میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد کسی پاکستانی وزیراعظم کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے، جس سے قبل 1992 میں میاں نواز شریف نے ویانا کا دورہ کیا تھا۔ سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والا یہ دورہ پاکستان کی یورپ میں سفارتی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

پاک۔ آسٹریا بزنس فورم اور اقتصادی مواقع
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے دوران آسٹرین اکنامک چیمبر کے زیرِ اہتمام منعقدہ ‘پاک۔ آسٹریا بزنس فورم’ سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے آسٹریا کی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ملک کی 24 کروڑ آبادی، بالخصوص باصلاحیت نوجوانوں کو ایک عظیم اثاثہ قرار دیا۔ وزیراعظم نے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، کان کنی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر پیش کیا۔

تزویراتی مذاکرات اور دو طرفہ تعاون
دورے کے دوران وزیراعظم نے آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹوکر سے فیڈرل چانسلری میں وفود کی سطح پر اہم مذاکرات کیے۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مری میں کیبل کار منصوبے اور معدنیات جیسے موجودہ منصوبوں سے آگے بڑھ کر طویل المدتی اور منظم بنیادوں پر روابط استوار کیے جائیں گے۔ آسٹریا کے چانسلر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جرمن زبان پر عبور کو سراہتے ہوئے ان کی گفتگو کی ویڈیو اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر شیئر کی، جسے سفارتی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔

عالمی چیلنجز اور ذمہ دارانہ کردار
وزیراعظم نے یورپی ممالک کے ساتھ غیر قانونی ہجرت کے خلاف تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور ماحولیاتی تبدیلی و پائیدار ترقی جیسے عالمی امور پر پاکستان کا تعمیری موقف پیش کیا۔ ویانا میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی موجودگی کے تناظر میں یہ گفتگو پاکستان کو ایک ذمہ دار بین الاقوامی شراکت دار کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دورے سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور یورپی منڈیوں تک رسائی کی نئی راہیں بھی روشن ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب آئندہ ہفتے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس فراہم کرے گا، جبکہ سابقہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو بھی طویل مدت کے لیے رول اوور کر دیا گیا ہے

April 15, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے

April 15, 2026

حکام کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو آئندہ وزرائے خارجہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو 17 اپریل کو ترکیے کے شہر انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر منعقد ہوگا۔

April 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *