دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم کو آنکھوں کے جاری مسئلے کے باعث مختصر مدت کے لیے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ کا طبی طریقۂ کار انجام دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں علاج کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

February 15, 2026

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “پورا پاکستان جیتیں گے اور ملک کو بنائیں گے، وزیر اعظم بلاول ہوں گے۔” ان کا اشارہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب تھا، جنہیں انہوں نے مستقبل کی قیادت کے طور پر پیش کیا۔

February 15, 2026

ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان پر پابندیوں کو ناجائز قرار دیا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں

February 15, 2026

دہشت گردوں کے قبضے میں موجود کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے اس کا دوبارہ استعمال ممکن نہ ہو۔

February 15, 2026

موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنائیں۔ مشترکہ گشت، سفارتی رابطوں اور اقتصادی شمولیت کے ذریعے خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

February 15, 2026

مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہا ہے، اور مختلف مواقع پر اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے خطے میں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل المدتی استحکام کے لیے سیاسی مکالمہ اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

February 15, 2026

اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا طبی معائنہ، ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم موجود؛ شفا ہسپتال منتقلی کا امکان

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم کو آنکھوں کے جاری مسئلے کے باعث مختصر مدت کے لیے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ کا طبی طریقۂ کار انجام دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں علاج کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
اڈیالہ جیل میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا طبی معائنہ، ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم موجود؛ شفا ہسپتال منتقلی کا امکان

جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دعوت اور طویل انتظار کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی بھی رہنما چیک اپ کے عمل میں شرکت کے لیے جیل نہیں پہنچا۔

February 15, 2026

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے مختلف بڑے اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق میڈیکل بورڈ دوپہر ڈھائی بجے سے جیل میں موجود رہا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی نمائندگی کا انتظار کرتا رہا۔

جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دعوت اور طویل انتظار کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی بھی رہنما چیک اپ کے عمل میں شرکت کے لیے جیل نہیں پہنچا۔ حکام کے مطابق اگر کوئی نمائندہ موجود نہ ہو تو بھی طبی معائنہ شروع کر دیا جائے گا تاکہ سابق وزیرِ اعظم کی صحت کے حوالے سے ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جا سکیں۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ مختلف اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم ضروری طبی آلات اور ادویات کے ہمراہ جیل پہنچی۔ میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں سابق وزیرِ اعظم کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ شروع کیا گیا، جبکہ مکمل طبی جانچ کے لیے تمام انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق سیکیورٹی کے سخت انتظامات میں طبی معائنہ جاری ہے اور ٹیم اپنی رپورٹ جلد مرتب کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معائنے کے بعد حتمی میڈیکل رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کی جائے گی۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم کو آنکھوں کے جاری مسئلے کے باعث مختصر مدت کے لیے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ کا طبی طریقۂ کار انجام دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں علاج کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ بیان جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کی صحت سے متعلق پیش رفت موجودہ سیاسی ماحول میں خاص اہمیت رکھتی ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ تمام طبی اقدامات قواعد و ضوابط کے مطابق اور شفاف انداز میں کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “پورا پاکستان جیتیں گے اور ملک کو بنائیں گے، وزیر اعظم بلاول ہوں گے۔” ان کا اشارہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب تھا، جنہیں انہوں نے مستقبل کی قیادت کے طور پر پیش کیا۔

February 15, 2026

ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان پر پابندیوں کو ناجائز قرار دیا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں

February 15, 2026

دہشت گردوں کے قبضے میں موجود کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے اس کا دوبارہ استعمال ممکن نہ ہو۔

February 15, 2026

موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنائیں۔ مشترکہ گشت، سفارتی رابطوں اور اقتصادی شمولیت کے ذریعے خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

February 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *