سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے مختلف بڑے اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق میڈیکل بورڈ دوپہر ڈھائی بجے سے جیل میں موجود رہا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی نمائندگی کا انتظار کرتا رہا۔
جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دعوت اور طویل انتظار کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی بھی رہنما چیک اپ کے عمل میں شرکت کے لیے جیل نہیں پہنچا۔ حکام کے مطابق اگر کوئی نمائندہ موجود نہ ہو تو بھی طبی معائنہ شروع کر دیا جائے گا تاکہ سابق وزیرِ اعظم کی صحت کے حوالے سے ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جا سکیں۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ مختلف اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم ضروری طبی آلات اور ادویات کے ہمراہ جیل پہنچی۔ میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں سابق وزیرِ اعظم کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ شروع کیا گیا، جبکہ مکمل طبی جانچ کے لیے تمام انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے تھے۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی کے سخت انتظامات میں طبی معائنہ جاری ہے اور ٹیم اپنی رپورٹ جلد مرتب کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معائنے کے بعد حتمی میڈیکل رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کی جائے گی۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات سابق وزیرِ اعظم کو آنکھوں کے جاری مسئلے کے باعث مختصر مدت کے لیے الشفا ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً 20 منٹ کا طبی طریقۂ کار انجام دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں علاج کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ بیان جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کی صحت سے متعلق پیش رفت موجودہ سیاسی ماحول میں خاص اہمیت رکھتی ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ تمام طبی اقدامات قواعد و ضوابط کے مطابق اور شفاف انداز میں کیے جا رہے ہیں۔