امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایسے بل کو آگے بڑھا دیا ہے جس کے تحت روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔
بھارت بھی اس ممکنہ کارروائی کی زد میں آسکتا ہے۔ ایوان میں بل کو 214 کے مقابلے میں 211 ووٹوں سے آگے بڑھایا گیا۔ اب اس پر حتمی ووٹنگ ہونا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت روس سے توانائی کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ اس کی توانائی سے متعلق پالیسیاں قومی مفاد، دستیابی اور عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھ کر طے ہوتی ہیں۔
بھارت پر دباؤ بڑھ گیا
متعلقہ امریکی قانون سازی کا مقصد روس کے توانائی شعبے اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ بل میں روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک کے خلاف اضافی ٹیرف کا راستہ کھولنے کی تجویز شامل ہے۔
امریکی ایوان میں پیش کی گئی ایک ترمیم میں بھارت سمیت متعدد ممالک کو ممکنہ ٹیرف کے دائرے میں واضح طور پر شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم حتمی ٹیرف کی شرح اور اس کے نفاذ کا فیصلہ قانون سازی کے اگلے مراحل کے بعد ہوگا۔
بھارت نے گزشتہ عرصے میں روسی تیل کی خریداری کو اپنی توانائی پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ اسی معاملے پر واشنگٹن کی جانب سے نئی دہلی پر تجارتی دباؤ بڑھتا رہا ہے۔
اب 100 فیصد تک ممکنہ ٹیرف کی قانون سازی نے بھارت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔ اگر یہ اختیار استعمال کیا گیا تو بھارتی مصنوعات کی امریکی مارکیٹ تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ایسے میں روسی توانائی کی خریداری اور امریکی تجارتی مطالبات کے درمیان توازن نئی دہلی کے لیے اہم مسئلہ بن گیا ہے۔
بھارتی برآمدی شعبے
ممکنہ اضافی ٹیرف سے بھارت کی امریکا کو برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹیکسٹائل، جیمز و جیولری، مشینری اور دیگر شعبے امریکی منڈی میں بھارتی برآمدات کا اہم حصہ ہیں۔
بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق پہلے بھی امریکی ٹیرف اقدامات کے تحت بھارتی برآمدات کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا تھا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں 100 فیصد تک اضافی ٹیرف کا امکان ان شعبوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں بھارت کی امریکا کو اشیا کی برآمدات 8.3 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی منڈی بھارتی برآمدات کے لیے اب بھی اہم ہے۔
حتمی فیصلہ ابھی باقی
امریکی ایوانِ نمائندگان کی موجودہ پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف نافذ ہوگیا ہے۔ بل کو پہلے حتمی منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا، جبکہ اصل ٹیرف عائد کرنے کا اختیار بھی الگ مرحلے سے مشروط ہے۔
یوں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کا مؤقف اور امریکا کی جانب سے ممکنہ تجارتی کارروائی آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم معاملہ بن چکی ہے۔ نئی دہلی کے لیے اب توانائی کے مفاد، روس کے ساتھ تعلقات اور امریکی مارکیٹ تک رسائی کے درمیان توازن برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہوگا۔