لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بھارت پر 100 فیصد امریکی ٹیرف کا خطرہ، روسی تیل نے مودی کی مشکل بڑھا دی

امریکی ایوان نے بھارت سمیت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف کی اجازت دینے والے بل کو آگے بڑھا دیا، حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
بھارت پر 100 فیصد ٹیرف کا خطرہ، امریکا میں بل آگے بڑھ گیا

امریکی ایوان نے بھارت پر 100 فیصد تک ممکنہ ٹیرف والے بل کو آگے بڑھا دیا۔ روسی تیل، بھارتی برآمدات اور امریکا سے تجارتی تعلقات پر دباؤ بڑھ گیا۔

September 16, 2026

امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایسے بل کو آگے بڑھا دیا ہے جس کے تحت روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔

بھارت بھی اس ممکنہ کارروائی کی زد میں آسکتا ہے۔ ایوان میں بل کو 214 کے مقابلے میں 211 ووٹوں سے آگے بڑھایا گیا۔ اب اس پر حتمی ووٹنگ ہونا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت روس سے توانائی کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ اس کی توانائی سے متعلق پالیسیاں قومی مفاد، دستیابی اور عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھ کر طے ہوتی ہیں۔

بھارت پر دباؤ بڑھ گیا

متعلقہ امریکی قانون سازی کا مقصد روس کے توانائی شعبے اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ بل میں روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک کے خلاف اضافی ٹیرف کا راستہ کھولنے کی تجویز شامل ہے۔

امریکی ایوان میں پیش کی گئی ایک ترمیم میں بھارت سمیت متعدد ممالک کو ممکنہ ٹیرف کے دائرے میں واضح طور پر شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم حتمی ٹیرف کی شرح اور اس کے نفاذ کا فیصلہ قانون سازی کے اگلے مراحل کے بعد ہوگا۔

بھارت نے گزشتہ عرصے میں روسی تیل کی خریداری کو اپنی توانائی پالیسی کا اہم حصہ بنایا ہے۔ اسی معاملے پر واشنگٹن کی جانب سے نئی دہلی پر تجارتی دباؤ بڑھتا رہا ہے۔

اب 100 فیصد تک ممکنہ ٹیرف کی قانون سازی نے بھارت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔ اگر یہ اختیار استعمال کیا گیا تو بھارتی مصنوعات کی امریکی مارکیٹ تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ایسے میں روسی توانائی کی خریداری اور امریکی تجارتی مطالبات کے درمیان توازن نئی دہلی کے لیے اہم مسئلہ بن گیا ہے۔

بھارتی برآمدی شعبے

ممکنہ اضافی ٹیرف سے بھارت کی امریکا کو برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹیکسٹائل، جیمز و جیولری، مشینری اور دیگر شعبے امریکی منڈی میں بھارتی برآمدات کا اہم حصہ ہیں۔

بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق پہلے بھی امریکی ٹیرف اقدامات کے تحت بھارتی برآمدات کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوا تھا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں 100 فیصد تک اضافی ٹیرف کا امکان ان شعبوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں بھارت کی امریکا کو اشیا کی برآمدات 8.3 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی منڈی بھارتی برآمدات کے لیے اب بھی اہم ہے۔

حتمی فیصلہ ابھی باقی

امریکی ایوانِ نمائندگان کی موجودہ پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف نافذ ہوگیا ہے۔ بل کو پہلے حتمی منظوری کے مراحل سے گزرنا ہوگا، جبکہ اصل ٹیرف عائد کرنے کا اختیار بھی الگ مرحلے سے مشروط ہے۔

یوں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کا مؤقف اور امریکا کی جانب سے ممکنہ تجارتی کارروائی آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم معاملہ بن چکی ہے۔ نئی دہلی کے لیے اب توانائی کے مفاد، روس کے ساتھ تعلقات اور امریکی مارکیٹ تک رسائی کے درمیان توازن برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہوگا۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *