بھارت کے عسکری فوقیت کے دعوے مئی 2025 میں اس وقت بے نقاب ہوئے جب پاکستان نے بھارتی فضائی حملوں کو ناکام بنایا اور صدر ٹرمپ کے بیانات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کر کے رکھ دیا۔ اسی تناظر میں دونوں ممالک کے مابین ایک نئی سفارتی جنگ کا آغاز ہوا، جس نے عالمی طاقتوں کو اپنے اتحادی بدلنے پر مجبور کردیا۔ بھارت نے اس واقعے کو اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور دفاعی جوابی کارروائی قرار دیا، جبکہ پاکستان نے تمام تر الزامات کی تردید کی۔
اس کشیدگی نے بھارت کی اپنی تخلیق کردہ عسکری اور برتری کے تصور کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔ بھارت کی جانب سے پچھلی دہائیوں میں مرتب کی گئی جنگی ساکھ اپنے ہمیشہ سے متوقع انداز میں عالمی سطح پر تسلیم نہیں کرائی جا سکی۔ یہ محض دو ممالک کے مابین کشیدگی نہیں تھی، بلکہ ایک قوم کے اپنے عسکری اور سفارتی ادراک کا عالمی پیمانے پر امتحان تھی۔۔
ٹرمپ کا بیان اور امریکی ساکھ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر سیاسی و ذاتی مقاصد کے لیے ایسے بیانات دیے جنہوں نے بھارت۔ امریکہ تعلقات کو شدید متاثر کیا۔ ٹرمپ نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ پاک فوج نے بھارت کے آٹھ جنگی طیارے مار گرائے ہیں، جبکہ بھارت صرف دو طیارے تباہ کر سکا۔ ان بیانات نے بھارتی عوام اور حکومت دونوں کو شدید صدمہ پہنچایا اور امریکہ کے بطور قابل اعتماد اتحادی کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔
بھارت میں صدر ٹرمپ کے بیانات کے خلاف ردعمل انتہائی شدید رہا۔ بھارتی میڈیا، سیاسی حلقوں اور عوام نے ان بیانات کو ایک پرانے سٹریٹجک پارٹنر کی طرف سے “غداری” کے مترادف قرار دیا۔ اس واقعے نے بھارتی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے: سب سے پہلے قومی وقار اور حب الوطنی کے جذبات کو گہرا دھچکا لگا، دوسرا ایک قریبی اتحادی کی جانب سے دھوکے کا احساس پیدا ہوا اور ساتھ ساتھ یہ یقین پختہ ہوا کہ امریکی خارجہ پالیسی اب غیر مستحکم اور صرف ذاتی مفادات تک محدود ہو چکی ہے۔
روس کی حکمتِ عملی
اسی پس منظر میں روس نے نہایت ہی مؤثر انداز میں اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی، جس نے بھارت کے لیے سفارتی سطح پر ایک نئی سمت متعین کر دی۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نہ صرف بھارت کی خودمختاری کا برملا احترام کیا بلکہ تنازعے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے سے گریز کرتے ہوئے اسے دوطرفہ معاملہ قرار دیا۔ پیوٹن کی حکمت عملی تین سطحوں پر کام کرتی نظر آئی: سفارتی سطح پر مکمل حمایت کا اظہار، عملی سطح پر دفاعی تعاون میں تیزی اور معاشی سطح پر توانائی کے معاہدوں میں خصوصی رعایات۔
بھارت میں بڑھتی ہوئی مقبولیت
بھارتی عوام اور حکومت کی نظروں میں ولادیمیر پیوٹن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت محض اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ متعدد عوامل و اقدامات کا نتیجہ ہے۔ روس کی کامیاب خارجہ پالیسی، شراکت داری کا احساس اور کثیرالجہتی عالمی نظام کی حمایت نے مل کر پیوٹن کو ایک “نجات دہندہ” کے طور پر اُبھارا۔
امریکی سفیر گور
امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور اس وقت ازمائشی کیفیت سے دوچار ہیں۔ انہیں نہ صرف ٹرمپ کے بیانات سے پیدا ہونے والے اعتماد کے بحران کا ازالہ کرنا ہے بلکہ بھارت و روس کے مضبوط ہوتے تعلقات اور امریکی انتخابات کے غیر یقینی نتائج جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق سفیر گور کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ بھارت کو یقین دلا سکیں کہ امریکہ ایک “قابل اعتماد، مستحکم اور بااحترام” شراکت دار بننے کو تیار ہے۔
عالمی طاقت کے نئے مراکز
مئی 2025 کا واقعہ درحقیقت عالمی طاقت کے مراکز میں ہونے والی ایک بڑی تبدیلی کی واضح علامت ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ پرانی اتحادی لکیریں ماند پڑ رہی ہیں اور ممالک اب اپنے قومی مفادات کے مطابق لچکدار اور کثیرالجہتی اتحاد تشکیل دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ کی “سافٹ پاور” کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ پیوٹن کی حکمت عملی نے روس کی سٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔
سفارتی ترجیحات
آج کی سفارت کاری محض بیانات، معاہدوں اور اعلامیوں سے آگے نکل چکی ہے۔ جو ممالک اپنی سلامتی دوسروں کے سہارے یا عارضی سیاسی یقین دہانیوں پر چھوڑ دیتے ہیں، وہ بالآخر تنہائی اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات سے پیدا ہونے والا بحران صرف بھارت۔ امریکہ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ عالمی سفارتی نظام کے لیے ایک اہم سبق پیش کرتا ہے: حقیقی طاقت اور پائیدار اعتماد اسی میں مضمر ہے جو اپنی عسکری خود انحصاری، دفاعی صلاحیتوں اور اسٹریٹجیکل خودمختاری پر استوار ہو۔ یہ وہ نئی سفارتی حقیقت ہے جس کا اعتراب ہر اس ملک کو کرنا ہوگا جو عالمی سطح پر اپنا وقار برقرار رکھنا چاہتا ہے۔