نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات بھارتی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کا سرمایہ نکال لیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سرمایہ کار بھارت کی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹس سے تقریباً 12.14 ارب ڈالر کا سرمایہ واپس لے چکے ہیں، جس سے مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کیلئے معاشی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ بھارت اپنی توانائی ضروریات کیلئے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو بھارت سمیت دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بھی شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔