...
جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

March 29, 2026

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

اماراتی وزیر خارجہ نے بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کے حل کیلئے تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی

March 29, 2026

ایران جنگ کے اثرات، بھارتی معیشت دباؤ کا شکار؛سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر نکال لئے

جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے
بھارتی معیشت بدحالی کا شکار

جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سرمایہ کار بھارت کی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹس سے تقریباً 12.14 ارب ڈالر کا سرمایہ واپس لے چکے ہیں، جس سے مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

March 29, 2026

نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات بھارتی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کا سرمایہ نکال لیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سرمایہ کار بھارت کی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹس سے تقریباً 12.14 ارب ڈالر کا سرمایہ واپس لے چکے ہیں، جس سے مالیاتی منڈیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کیلئے معاشی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ بھارت اپنی توانائی ضروریات کیلئے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو بھارت سمیت دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بھی شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دیکھئیے:کشمیر متنازع علاقہ ہے، کوئی یکطرفہ اقدام حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا: پاکستان کا اقوام متحدہ میں مؤقف

متعلقہ مضامین

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.