بھارت کی جانب سے 2036 کے اولمپکس کھیلوں کی میزبانی کے دعوے نے عالمی سطح پر ایک نیا بحث چھیڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میزبانی کے خواب سے پہلے بھارت کو اپنے سنگین اندرونی، معاشی اور سماجی مسائل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی 2025ء کی رپورٹ کے مطابق، انسانی ترقی کے اشاریے میں بھارت 193 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہے۔ مزید برآں، عالمی بھوک اشاریے میں بھی بھارت 123 ممالک میں 102ویں نمبر پر موجود ہے، جو وہاں غذائی قلت کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارت کو شدید فضائی آلودگی، آلودہ دریاؤں اور صفائی کے ناقص انتظامات کا بھی سامنا ہے۔ ملک میں فضائی آلودگی عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے 14 گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ سیاحوں کی حفاظت، خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی پر عالمی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، صرف چند ارب پتیوں کی دولت یا خلائی پروگرام کی بنیاد پر کسی ملک کو ترقی یافتہ نہیں مانایا جا سکتا۔ عالمی اعزاز حاصل کرنے کی کوششوں سے پہلے بھارت کو اپنے شہریوں کی فلاح، تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینی چاہیے۔