"> سندھ طاس معاہدہ: بھارت کی جانب سے ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ: بھارت کی جانب سے ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار

عالمی واٹر ٹریبیونل کے تحت پی سی اے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت 9 فروری کی ڈیڈ لائن تک پاکستان کے ساتھ ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا شیئر کرنے میں ناکام رہا ہے، جو عالمی احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہے
عالمی واٹر ٹریبیونل کے تحت پی سی اے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت 9 فروری کی ڈیڈ لائن تک پاکستان کے ساتھ ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا شیئر کرنے میں ناکام رہا ہے، جو عالمی احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہے

بھارت نے پی سی اے کے احکامات کے باوجود پاکستان کو ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔ آبی تنازع میں نئی شدت کا خدشہ

February 10, 2026

سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم عالمی ثالثی فورم ‘پرسنل کوآرڈینیٹنگ اتھارٹی’ (Pپی سی اے) نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے مقررہ ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود پاکستان کے ساتھ متنازع ڈیمز کا تکنیکی ڈیٹا شیئر کرنے سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا۔ پی سی اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 29 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے پراسیجرل آرڈر میں بھارت کو سختی سے پابند کیا گیا تھا کہ وہ 9 فروری تک متنازع پن بجلی منصوبوں کی تکنیکی تفصیلات پاکستان کے حوالے کرے، تاہم بھارتی حکام نے اس عالمی حکم کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے ڈیٹا کی عدم فراہمی کا مقصد کشن گنگا اور رتلے جیسے متنازع منصوبوں پر پاکستانی تحفظات کو دبانا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے ان ڈیمز کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے، کیونکہ یہ ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ پی سی اے کی جانب سے مقرر کردہ مدت میں ڈیٹا فراہم نہ کرنا عالمی قانون سازی اور ثالثی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی دانستہ کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرینِ آبیات کے مطابق، بھارت کی یہ روش نہ صرف دوطرفہ معاہدوں بلکہ بین الاقوامی واٹر ٹریبیونل (آئی ڈبلیو ٹی) کے وقار کے لیے بھی چیلنج ہے۔ بھارت کی مسلسل خاموشی اور ڈیٹا شیئرنگ سے گریز کے بعد اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو دوبارہ عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گا تاکہ دریائی پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب عالمی ٹریبیونل کی جانب سے اگلے پراسیجرل مرحلے کا آغاز متوقع ہے جس میں بھارت کے خلاف سخت ریمارکس یا یکطرفہ کارروائی کی سفارش کی جا سکتی ہے۔

دیکھیے: ازبک صدر شوکت مرزایوف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *