"> لداخ میں بھارتی فوج کا ہیلی کاپٹر تباہ؛ پرانی ٹیکنالوجی پر پھر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

لداخ میں چییتا ہیلی کاپٹر حادثہ: پرانی ٹیکنالوجی پر انحصار پر سوالات پھر اٹھ گئے

لداخ میں بھارتی فوج کا چییتا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے بعد، نئی دہلی کی جانب سے 1960 کی دہائی کے پرانے ونٹیج ہیلی کاپٹرز پر مسلسل انحصار اور فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
لداخ میں بھارتی فوج کا چییتا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے بعد، نئی دہلی کی جانب سے 1960 کی دہائی کے پرانے ونٹیج ہیلی کاپٹرز پر مسلسل انحصار اور فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

لداخ کے علاقے تنگتسے میں بھارتی فوج کا چییتا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے نے ایک بار پھر بلند پہاڑی علاقوں میں پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال اور بھارتی فوجیوں کی جانوں کو سستا سمجھے جانے کے تاثر کو جنم دیا ہے۔

May 24, 2026

نئی دہلی: لداخ کے انتہائی حساس اور بلند پہاڑی علاقے میں بھارتی فوج کا ایک اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے، جس نے بھارتی فوج کے فضائی بیڑے کی گرتی ہوئی ساکھ اور پرانی ٹیکنالوجی پر مسلسل انحصار کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 20 مئی 2026 کو لداخ کے علاقے تنگتسے (لیہہ کے قریب) میں بھارتی فوج کا چییتا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا۔ ہیلی کاپٹر میں ایک میجر جنرل سمیت تین سینیئر فوجی افسران سوار تھے، جو خوش قسمتی سے اس حادثے میں محفوظ رہے۔

ونٹیج ہیلی کاپٹرز اور سکیورٹی

اس حالیہ حادثے کے بعد ایک بار پھر عالمی اور مقامی سطح پر یہ تاثر گہرا ہو گیا ہے کہ بھارتی دفاعی نظام میں پرانے ونٹیج ہیلی کاپٹرز کو اپنے ہی فوجیوں کی جانوں سے زیادہ قیمتی تصور کیا جا رہا ہے۔ لداخ جیسے بلند، دشوار گزار اور تزویراتی طور پر حساس خطوں میں، جہاں جدید ترین ایوی ایشن ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں بھارتی فوج آج بھی 1960 کی دہائی کے پرانے اور ناکارہ ہیلی کاپٹروں پر انحصار کر رہی ہے۔ یہ صورتحال فوجی آپریشنز کی بنیادی حفاظت اور دفاعی صلاحیتوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

حادثات کے خوفناک اعداد و شمار

دستیاب دفاعی اعداد و شمار کے مطابق، یہ کوئی پہلا یا اتفاقی واقعہ نہیں ہے بلکہ بھارتی مسلح افواج میں یہ ایک مستقل اور خطرناک رجحان بن چکا ہے۔ سال 2017 کے بعد سے اب تک بھارتی مسلح افواج کے ہیلی کاپٹرز کے تقریباً 20 سنگین حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 40 کے قریب فوجی اہلکار اور سینیئر افسران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان مسلسل نقصانات اور گرتے ہوئے طیاروں کے باوجود، بھارتی وزارتِ دفاع کی جانب سے پرانے پلیٹ فارمز کو تبدیل نہ کرنا عسکری حلقوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

جوانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل حادثات اور درجنوں ہلاکتوں کے باوجود پرانی اور آؤٹ ڈیٹڈ ٹیکنالوجی کو فضائی بیڑے کا حصہ برقرار رکھنا بھارتی فوجیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ لداخ حادثے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا بھارتی حکومت کے لیے اپنے جوانوں کی انسانی سلامتی سے زیادہ اہم ان پرانے ڈھانچوں کو بچانا ہے؟ ماہرین کے مطابق، اگر وقت رہتے ان ونٹیج ہیلی کاپٹرز کو جدید اور محفوظ متبادلات سے تبدیل نہ کیا گیا، تو بلند پہاڑی علاقوں میں تعینات بھارتی فوجیوں کا مستقبل مزید غیر یقینی اور خطرناک ہو جائے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *