بھارت کے دارالحکومت میں منعقد ہونے والا “اے آئی امپیکٹ سمٹ” جو ملک کے تکنیکی عزائم کو اجاگر کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، افتتاحی روز ہی انتظامی مسائل کے باعث تنقید کی زد میں آ گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد شرکاء نے طویل قطاروں، غیر معمولی رش اور ناقص انتظامات کی شکایات کیں۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ تقریب کے مقام پر سیکیورٹی کلیئرنس کے اچانک اقدامات کے باعث نمائش ہال کو خالی کرا لیا گیا، جس کے نتیجے میں لوگوں کو اپنی ذاتی اشیاء واپس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مندوبین نے بتایا کہ واضح ہدایات نہ ہونے کی وجہ سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہوئی اور کئی افراد کو معلوم ہی نہیں تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔
مزید برآں، منگل کو مختلف پینلز میں شرکت کرنے والے بعض مقررین کو تاحال اپنے سیشنز اور ایجنڈے کی باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی تھی، جس سے ایونٹ کی پیشہ ورانہ تیاری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی ایونٹس میں منظم انتظامات نہ صرف ملک کی ساکھ سے جڑے ہوتے ہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
دوسری جانب منتظمین کا مؤقف ہے کہ بعض چیلنجز کے باوجود تقریب مجموعی طور پر کامیاب رہی اور سیکیورٹی اقدامات اعلیٰ سطحی شخصیات کی آمد کے باعث ضروری تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے ایونٹس کے لیے انتظامی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت جیسے ملک کے لیے، جو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی قیادت کا خواہاں ہے، اس طرح کے انتظامی مسائل ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔