مختلف دھڑوں، کمانڈرز اور پاور سینٹرز کے درمیان کشیدگی نے فیصلہ سازی کو مزید کمزور کر دیا ہے، جس کا اثر براہ راست سیکیورٹی کی ناکامیوں اور گورننس کے بگاڑ کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔

November 30, 2025

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، ان کے نیٹ ورکس کو بچا رہی ہے، اور امریکی چھوڑے گئے جدید ہتھیار دہشت گرد عناصر کے استعمال میں آ رہے ہیں۔

November 30, 2025

ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی معلومات، حملہ آور کے پس منظر اور متعدد حالیہ حملوں اور منصوبہ بندیوں کے تناظر میں یہ امر واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں۔

November 30, 2025

مزید برآں، ایف ای یو خضدار میں ایک ہینو ٹرک کو قبضے میں لیا گیا، جو 2 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے اسمگل شدہ خشخاش کے بیج لے جا رہا تھا۔

November 30, 2025

خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے جو اہم آئینی مقدمات کی سماعت کرے گی۔ ترمیم کے مطابق اس عدالت کے ججوں کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق فیصلے اب حکومت کے اختیار میں ہوں گے۔

November 30, 2025

دفترِ خارجہ کے مطابق، یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط، وسیع اور اسٹریٹجک سمت دینے میں مددگار ثابت ہوگی، جس میں سیاسی، معاشی، دفاعی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی توجہ دی جائے گی۔

November 30, 2025

افغانستان میں طالبان مخالف کاروائیاں جاری، بدخشاں میں افغان فریڈم فرنٹ کا راکٹ حملہ

مختلف دھڑوں، کمانڈرز اور پاور سینٹرز کے درمیان کشیدگی نے فیصلہ سازی کو مزید کمزور کر دیا ہے، جس کا اثر براہ راست سیکیورٹی کی ناکامیوں اور گورننس کے بگاڑ کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان مخالف کاروائیاں جاری، بدخشاں میں افغان فریڈم فرنٹ کا راکٹ حملہ

یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حملہ نہیں بلکہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی مسلسل سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

November 30, 2025

افغانستان میں داخلی انتشار اور بکھراؤ ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے۔ 28 نومبر کو افغانستان فریڈم فرنٹ نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے ساتویں سیکیورٹی زون ٹیلی ویژن ہل پر راکٹ حملہ کیا۔ حملے کے بعد 15 منٹ تک ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے جھڑپ جاری رہی، جس میں تین طالبان جنگجو ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔

یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حملہ نہیں بلکہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی مسلسل سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ملک بھر میں سیکیورٹی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے، مختلف نسلی، علاقائی اور سیاسی گروہ طالبان حکومت کے خلاف کھل کر مزاحمت کر رہے ہیں، اور افغانستان کا نقشۂ تنازع پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خود طالبان تحریک کے اندر بھی ڈھکے چھپے اختلافات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف دھڑوں، کمانڈرز اور پاور سینٹرز کے درمیان کشیدگی نے فیصلہ سازی کو مزید کمزور کر دیا ہے، جس کا اثر براہ راست سیکیورٹی کی ناکامیوں اور گورننس کے بگاڑ کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ واقعات ایک ایسے افغانستان کی تصویر پیش کرتے ہیں جو بگڑتے ہوئے داخلی بحران میں جکڑا ہوا ہے۔ حکمرانی کا فقدان، ٹوٹتی ہوئی سیکیورٹی، بڑھتی ہوئی مزاحمت اور طالبان کی اندرونی تقسیم سب عناصر مل کر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان میں استحکام کی امیدیں عملی طور پر معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، ان کے نیٹ ورکس کو بچا رہی ہے، اور امریکی چھوڑے گئے جدید ہتھیار دہشت گرد عناصر کے استعمال میں آ رہے ہیں۔

November 30, 2025

ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی معلومات، حملہ آور کے پس منظر اور متعدد حالیہ حملوں اور منصوبہ بندیوں کے تناظر میں یہ امر واضح ہو رہا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں۔

November 30, 2025

مزید برآں، ایف ای یو خضدار میں ایک ہینو ٹرک کو قبضے میں لیا گیا، جو 2 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کے اسمگل شدہ خشخاش کے بیج لے جا رہا تھا۔

November 30, 2025

خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے جو اہم آئینی مقدمات کی سماعت کرے گی۔ ترمیم کے مطابق اس عدالت کے ججوں کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق فیصلے اب حکومت کے اختیار میں ہوں گے۔

November 30, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *