اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ساتھ ہی بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی عرب ممالک مذاکرات کی حمایت کر رہے تھے، لیکن جاری سفارتی عمل کو حملوں کے ذریعے پٹڑی سے اتار دیا گیا۔
عاصم افتخار نے ایران میں ایک اسکول میں بچوں کی ہلاکت اور متحدہ عرب امارات میں ایک شہری کی جان جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ہیں اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے سربراہان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی اور بعض خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی۔
وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو یقین دلایا کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور خطے میں امن کے لیے سفارتکاری اور بات چیت کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے ابوظہبی میں میزائل حملے میں جاں بحق ہونے والے ایک پاکستانی شہری کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کی۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قانون کی پاسداری ہر حال میں ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے اور خطے کو جنگ کے دہانے سے واپس لایا جائے۔
دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان وہ واحد مسلم ملک ہے جس نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں ہونے والے حملوں کی کھلے عام اور واشگاف الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اجلاس کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ایران کے خلاف جاری تمام جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کی جانی چاہئیں۔ پاکستان کے اس سخت موقف کو خطے میں امن و امان کی بحالی اور مسلم امہ کی ترجمانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سلامتی کونسل میں اس بحران کے حل کے لیے مشاورت جاری ہے۔