"> ایران بھارت سفارتی بحران: تہران کا نئی دہلی کو سخت انتباہ اور اسرائیل نوازی پر تنقید
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

میڈیا پراپیگنڈا اور اسرائیل نواز پالیسی پر ایران کا بھارت کو سخت انتباہ، تہران دہلی تعلقات بحران کا شکار

میڈیا پراپیگنڈے، چاہ بہار فنڈنگ کی بندش اور نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی اسرائیل نوازی پر ایرانی سفارتی مشن نے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں گہری دراڑ کا انکشاف کیا ہے۔
میڈیا پراپیگنڈا اور اسرائیل نواز پالیسی پر ایران کا بھارت کو انتباہ

ایران اور بھارت کے دیرینہ تعلقات شدید ترین بحران کا شکار۔ نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کا بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے اور بدلوتی خارجہ پالیسی پر سخت ردعمل۔

July 10, 2026

ایران اور بھارت کے دیرینہ سفارتی و اسٹریٹجک تعلقات شدید ترین بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ نئی دہلی میں قائم ایرانی سفارتی مشن نے بھارت کے میڈیا پراپیگنڈا نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بھارتی حلقوں کو ایرانی قوم کا دشمن اور میڈیا مسخرا قرار دیا ہے، جس سے دہائیوں پر محیط باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایرانی سفارت خانے کی جانب سے یہ سخت ترین ردعمل تہران کے سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی مشن کے مطابق دو ممالک کے 5 شہروں میں ہونے والی ان تقریبات میں 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی، لیکن ایرانی قوم کے دشمن اور ان کے میڈیا مسخرے اتحاد کے اس غیر معمولی مظاہرے کو برداشت نہیں کر پا رہے اور من گھڑت بیانیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ تناؤ اس وقت عروج پر پہنچا جب بھارتی را کے حمایت یافتہ سکیورٹی تجزیہ کار میجر گورو آریا کی جانب سے ایران کے خلاف شدید پراپیگنڈا مہم چلائی گئی۔ بھارتی ٹی وی میزبان گورو آریا نے مئی 2025 میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی، جس پر نئی دہلی کی مسلسل خاموشی کو تہران میں سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی سمجھا گیا۔

ایرانی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بھارت نے اپنی روایتی غیر جانبدار خارجہ پالیسی سے ہٹ کر تہران سے دوری اختیار کر لی ہے اور اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک قربت بڑھا لی ہے۔ امریکی و اسرائیلی حملوں سے چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے حملوں کے بعد بریفنگ لینے کے اعتراف نے تہران کے شکوک و شبہات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی سفارتی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ ایرانی صدر کی باقاعدہ دعوت کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی جنازہ تقریبات میں شرکت نہ کرنا بھی بنی، جسے تہران نے سردمہری کا کھلا مظاہرہ قرار دیا۔

عسکری اور سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ معاشی اور اسٹریٹجک محاذ پر بھی تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت نے اپنے حالیہ بجٹ میں ایران کی اہم چاہ بہار بندرگاہ کے لیے فنڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کم ہو کر محض 1.68 ارب ڈالر رہ گئی ہے، اور بھارت نے چاہ بہار منصوبے کے 10 سالہ معاہدے کے تحت آخری 120 ملین ڈالر کی ادائیگی کر کے اپنی وابستگی محدود کر لی ہے۔

اس سے قبل فروری 2026 میں بھارت کی جانب سے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو روکنے کے اقدام کو تہران نے واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے نئی دہلی کا جھکاؤ قرار دیا تھا، جبکہ بھارت کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائی اپنی حدود میں غیر قانونی شپ ٹو شپ منتقلی روکنے کے لیے کی گئی۔

سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق تہران کا حالیہ انتباہ واضح کرتا ہے کہ خطے میں نئی سفارتی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔ اگرچہ نئی دہلی کی جانب سے ان تمام الزامات پر ابھی تک باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم موجودہ بیانیے نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دونوں ممالک اس بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کر پاتے ہیں یا نہیں۔

دیکھیے: امریکہ ایران کشیدگی کے دوران مذاکرات جاری، ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے اہم رابطہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *