جنگوں کی تاریخ کی شاید یہ پہلی جنگ ہے جس میں دشمن، دشمن کی تعریف کر رہا ہے۔ اپنے نقصان کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے۔ جنگ سے قبل اور خاص کر دورانِ جنگ دونوں فریقوں کے ذمہ داران کی جانب سے ایسے بیانات مسلسل آ رہے ہیں جن سے ذہنوں میں ابہام باقی رہے، تاکہ اس سارے کھیل کی جزئیات کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کی جا سکے۔ یہ جنگ ہے کیا؟ یہ جنگ ایک شر ہے، فتنہ ہے، ہلاکت ہے، دھوکہ ہے، فساد فی الارض ہے، دجل و فریب ہے، جس کا ہدف ہی عالمِ اسلام خاص کر پاکستان اور سعودی عرب (الحرمین الشریفین) ہے۔ جس کا مین تھیم ہی یہی ہے کہ کسی طرح امتِ مسلمہ کے اذہان پر قبضہ کر کے، تقسیم کر کے اور اشتعال دلا کر اپنے اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل و مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے۔ المیہ یہ ہے کہ قرآن و سنت سے دوری کی بنا پر جذباتیوں کی ایک بڑی تعداد اغیار کی میڈیا پراپیگنڈا وار کا شکار ہو کر ان فتنوں کے پسِ پردہ مہلک حقائق سے نابلد ہے۔ جبکہ رحمۃ للعالمین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں سے بچنے کی صریحاً تاکید کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انا کی جنگ ہے، خطے کے وسائل پر قبضے کی جنگ ہے، خطے پر کنٹرول کی جنگ ہے۔ مکتی باہنی، داعش، بی ایل اے، بی ایل ایف، براس اور ٹی ٹی پی جیسے فتنوں کا ہی تسلسل ہے۔ نہ یہ حق و باطل کا معرکہ ہے، نہ ہی ظالم و مظلوم کی جنگ ہے اور نہ ہی اسلام و کفر کی جنگ ہے، بلکہ قرآن کی آیتِ کریمہ کی تفسیر کا مفہوم ہے: “اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر ان کے اعمالِ بد کے سبب مسلط کر دیتے ہیں” (الانعام: 129)۔
جنگ کے آغاز سے کسی کو امید نہیں تھی کہ جنگ اتنی شدت اختیار کر لے گی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دونوں جانب سے ہونے والے نقصانات، تباہی و شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں تو آ رہی ہیں۔ سویلین انفراسٹرکچر اور ملٹری اثاثوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جنگ کے شعلے اب تک کے سب سے حساس نوعیت کے اثاثوں تک پہنچ گئے ہیں۔ آئل ریفائنریوں اور پانی کے ذخیروں کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ لیکن اصل حقائق تو اسی وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب دونوں جانب سے میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کو ہٹایا جائے گا۔
جنگ میں ایران اپنی فضائی و بحری قوت کا بڑا حصہ کھونے کے باوجود اس کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے۔ مزاحمتی محور فریقِ ثانی کو ٹف ٹائم دے رہا ہے، جس سے اسرائیل و امریکہ کی دنیا بھر میں سبکی ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے خطے کے چودہ ممالک سے اپنے تمام شہریوں کو نکل جانے کا حکم دینا ان خدشات کو جنم دے رہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھانے جا رہا ہے، جس کا وہ اظہار بھی کر چکے ہیں۔ نیٹو کی جانب سے اس جنگ میں شمولیت سے انکار اور اپنے مطلوبہ مقاصد کے حصول میں ناکامی کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ تین آپشنز پر غور کر رہی ہے: 1۔ ایران کے خلاف کوئی بڑا آپریشن جیسے دس ٹن تک کا ایٹمی ہتھیار لے جانے والے بی-52 بمبار طیارے، جو برطانیہ پہنچ چکے ہیں۔ 2۔ عراق میں موجود مسلح کرد گروہوں کو بھی استعمال کرنے کا آپشن کھلا رکھا ہوا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اربیل کے علاقے میں حالیہ دنوں میں ایرانی فورسز اور کردوں کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ 3۔ جنگ لمبی ہونے کی صورت میں موساد یورپ بھر میں فالس فلیگ آپریشن کا آغاز کرے گی، جس کو بنیاد بنا کر یورپی اقوام کو عدم تحفظ کا احساس دلا کر اس جنگ میں شمولیت کے لیے مجبور کر دیا جائے گا۔
شروع دن سے ایرانی رجیم کی طرف سے دیا گیا بیانیہ کہ یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، جنگ پر گہری نظر رکھنے والے خلیجی ممالک پر ہونے والے متواتر حملوں کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اب تک کی صورتِ حال کے مطابق ایرانی رجیم کا یہ بیانیہ خود ان کے لیے مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی غیر ملکی مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں صورتِ حال اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ سعودیہ، ترکیہ اور عرب امارات نے ایرانی رجیم کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ مزید جارحانہ رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر یہ سلسلہ رکا نہیں تو اندیشہ ہے سعودی عرب خلیجی ممالک کی مدد کو میدان میں کود پڑے گا، تب سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کو بھی کودنا پڑے گا۔ ثلاثہ کی اس جنگ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا یہی ٹرننگ پوائنٹ ہے، مین تھیم ہے کہ حالات اس نہج تک پہنچا دیے جائیں کہ پاکستان ناچاہتے ہوئے بھی اس جنگ میں ملوث ہو جائے۔ ملکی سلامتی سے وابستہ تھنک ٹینک جنگ کے ہر لمحے بدلتے حالات کا گہری نظروں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ حالات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے فیلڈ مارشل سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی رجیم کی جانب سے خلیجی ممالک میں اتنے شدت سے حملے ان کی جنگ بندی کی خواہش کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دیے جانے والے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو رہا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی تو چاہتے ہیں لیکن مسئلہ خطے میں اپنی اپنی ساکھ کا بن چکا ہے۔ دونوں جانب کے سخت گیر عناصر جن کے ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں، وہ حالات کو پرسکون رکھنے کے حق میں نہیں۔
خطے کی بعض طاقتوں نے جنگ بندی کے لیے دوڑ دھوپ شروع کر دی ہے۔ موجودہ ابتر جنگی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس جنگ کا یا تو چند دنوں میں سیز فائر ہو جائے گا یا پھر مہینوں چلے گی۔ بہرحال چند دنوں میں کٹا کٹی نکل آئے گی۔ امریکہ کو رجیم چینج کا ابھی تک کوئی مؤثر متبادل نہیں ملا، جبکہ اسرائیل سے بھی ایسے اشارے موصول ہو رہے ہیں کہ وہ ایرانی رجیم چینج کیے بغیر جنگ بندی کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ فی الحال رجیم چینج کا خود ساختہ رولا رپا پسِ پردہ چلا گیا ہے۔ بین الاقوامی و خطے کے اسٹیک ہولڈروں کو ایرانی رجیم چینج کا ایشو نہیں بلکہ چار دہائیوں پر مشتمل ان انتہا پسندانہ جاری پالیسیوں سے ہے جس سے خطے کی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔
پانچ مارچ کو امریکہ نے بھارت کی ملی بھگت سے ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کو تارپیڈو سے ڈبو دیا۔ اس واقعے میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار اپنی جان گنوا بیٹھے تھے۔ کراچی سے لے کر سکردو تک سرکاری املاک و غیر ملکی سفارتی مشن کو جلانے والوں کی خاموشی چہ معنی دارد؟ بھارتی منافقت، دھوکہ دہی اور دہشت گردی کے خلاف کوئی آواز کیوں بلند نہیں ہو رہی؟ حالانکہ بھارت میں ان کے ہمنواؤں کی تعداد کروڑوں میں ہے، لیکن وہاں مکمل خاموشی ہے، جلاؤ گھیراؤ کی کوئی تحریک نہیں۔ کیا ان کا ہدف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ہی رہ گیا ہے؟