ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ پڑوسی ممالک کے حوالے سے عدم جارحیت کی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ صدر کے مطابق ایران اس وقت تک کسی ہمسایہ ملک پر حملہ نہیں کرے گا جب تک اسے خود جارحیت کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
عدم جارحیت کی پالیسی
صدر کے مطابق اس فیصلے کے تحت ایران کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی اقدام نہ کرنے کا پابند ہوگا، تاہم یہ پالیسی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کسی دوسرے ملک کی جانب سے ایران کی سالمیت کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کی جاتی۔
BREAKING: Iran’s interim leadership council has approved that neighbouring countries will no longer be attacked unless an attack on Iran originates from them, President Masoud Pezeshkian has said.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) March 7, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/OaSwu5wRUm pic.twitter.com/i9NCtfD0mi
صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ عبوری قیادت کونسل کا یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی سرحدوں کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، لیکن وہ اپنی جانب سے پہل کرتے ہوئے کسی بھی ہمسایہ ریاست پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس فیصلے کو علاقائی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے پڑوسی ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کے عمل میں بہتری آنے کی توقع ہے۔