ایران میں بڑھتی مہنگائی اور ریال کی گراوٹ کے خلاف گزشتہ پانچ روز سے جاری احتجاجی مظاہرے بدھ کے روز پُرتشدد ہو گئے، جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق ہنگامہ آرائی میں ملوث 30 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ احتجاجی مظاہرے 26 دسمبر کو شروع ہوئے جب مختلف شہروں میں خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایرانی ریال کی گراوٹ کے خلاف پُرامن مظاہرے کیے۔ ابتدائی طور پر محدود پیمانے پر احتجاجی مظاہرے تھے اور وہ بھی پُرامن لیکن اگلے ایک دو روز میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ ہوتا گیا۔
اطلاعات کے مطابق صورتحال یکم جنوری کو اس وقت حالات سنگین ہوئے جب کئی شہروں میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا اور سڑکیں بلاک کر دیں۔ سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں آنسو گیس اور دیگر طریقے استعمال کیے گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ان جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں مظاہرین اور ممکنہ طور پر سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
حکومتی ردعمل کے طور پر ایرانی حکام نے متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ بند کر دیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ یکم جنوری کو ملک بھر میں تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بھی بند کر دیے گئے۔ حکومتی ترجمانوں نے صورت حال کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اغواکار عناصر” نے پرامن مظاہروں کو تشدد کی طرف مائل کیا ہے۔
دیکھیں: پاکستان اور تاجکستان کے درمیان میٹ ایکسپورٹ میں نمایاں پیش رفت