ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کردی ہے۔ واضح رہے کہ ریاستی میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر گزشتہ رات سے خبریں یا پوسٹس نہیں دیکھی گئیں۔
احتجاجی مظاہرے ایران کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں، جن میں تہران، شیراز، اصفہان اور کرمانشاہ شامل ہیں۔ ہزاروں شہری اور طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جنہوں نے مہنگائی، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور حکومت کی ناقص پالیسیاں اور ریال کی گراوٹ کے خلاف احتجاج کیا۔ نیز مظاہرین سیاسی تبدیلی اور موجودہ نظام میں اصلاحات کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
𝗜𝗿𝗮𝗻 𝗦𝘁𝗮𝘁𝗲 𝗠𝗲𝗱𝗶𝗮 𝗜𝘀𝘀𝘂𝗲𝘀 𝗪𝗮𝗿𝗻𝗶𝗻𝗴 𝗔𝗺𝗶𝗱 𝗕𝗹𝗮𝗰𝗸𝗼𝘂𝘁 𝗮𝗻𝗱 𝗖𝗼𝘂𝗻𝘁𝗿𝘆𝘄𝗶𝗱𝗲 𝗣𝗿𝗼𝘁𝗲𝘀𝘁𝘀
— Afghan Analyst (@AfghanAnalyst2) January 9, 2026
Despite the internet and media blackout in Iran, a state media outlet posted a video on its Telegram channel today showing the aftermath of last… https://t.co/2FR9M6iaQI pic.twitter.com/7ZEbizpWme
انٹرنیٹ اور میڈیا کی بندش کے باوجود، ایران کے ایک ریاستی میڈیا ادارے نے تہران میں گزشتہ شب کے پُرتشدد مظاہروں کے مناظر ٹیلیگرام پر جاری کیے۔ ادارے نے والدین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو جذبات کے زیر اثر احتجاجی جلسوں میں نہ بھیجیں، اس دعوے کے ساتھ کہ دہشت گردانہ گروہ احتجاج میں شامل ہو کر لوگوں کو قتل کرنے اور خوف عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاجات میں اب تک کم از کم 40 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد گرفتار بھی ہوئے ہیں۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں متعدد شہروں میں شدت پسندانہ اقدامات اور تشدد کے مناظر بھی دیکھے گئے۔
دیکھیں: تہران میں ہنگاموں کے دوران موساد سے منسلک کارندہ گرفتار؛ ایرانی سکیورٹی حکام کی تصدیق