ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

April 7, 2026

حکام کے مطابق پاکستان فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل کیلئے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ہر سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔

April 7, 2026

جیسے ہی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب پہنچے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس تمام صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔

April 7, 2026

یہ مسودہ بحرین کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی، تاہم روس اور چین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی قرارداد خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواز بن سکتی ہے۔

April 7, 2026

حالیہ ادائیگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی بیرونی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ زرمبادلہ ذخائر اور مالی نظم و ضبط میں بہتری کے باعث ادائیگیوں کا سلسلہ برقرار ہے

April 7, 2026

انڈس واٹر ٹریٹی جیسے معاہدے صرف پانی کی تقسیم کا فریم ورک نہیں بلکہ علاقائی امن اور استحکام کی بنیاد ہوتے ہیں، اور ان کی معطلی خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔

April 7, 2026

ڈیڈلائن سے کچھ گھنٹے قبل ایران مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا، پاکستان کو بتایا ہم جیت رہے ہیں، 15 ہزار میزائل ابھی بھی موجود

ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
ایران کا مذاکرات سے انکار

ایران نے واضح کیا ہے کہ جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

April 7, 2026

تہران/اسلام آباد: ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات ختم کرتے ہوئے پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی کوششوں میں شامل نہیں ہوگا، جبکہ خود کو اس تنازع میں مضبوط اور کامیاب پوزیشن میں قرار دیا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے ثالثی کردار ادا کرنے والے پاکستان کو بتایا کہ وہ اس جنگ میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے اور اس کے پاس تقریباً 15 ہزار میزائل اور 45 ہزار ڈرونز موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے مذاکرات کے دوران بھی سخت مؤقف اختیار کیے رکھا اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار ظاہر نہیں کیے، یہاں تک کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست سفارتی روابط منقطع کرنے سے قبل بھی اس کا رویہ غیر لچکدار رہا۔

اخبار کے مطابق ثالثوں کا کہنا ہے کہ ایران کے پیش کردہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر مبالغہ آمیز ہو سکتے ہیں، تاہم یہ اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ تہران موجودہ صورتحال میں سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی بتا چکے ہیں کہ عین اس وقت جب ایران اور امریکا مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب تھے، اسرائیل نے ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے امن عمل کو شدید دھچکا پہنچا۔ ان کے مطابق ایسے حملوں نے سفارتی کوششوں کو متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ ایران نے مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔

دیکھئیے:مذاکرات سے قبل اسرائیلی حملے نے امریکا ایران امن عمل سبوتاژ کر دیا، اسحاق ڈار

متعلقہ مضامین

حکام کے مطابق پاکستان فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل کیلئے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ہر سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔

April 7, 2026

جیسے ہی دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب پہنچے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے سعودی عرب کے شہر الجبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور اس تمام صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔

April 7, 2026

یہ مسودہ بحرین کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی، تاہم روس اور چین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی قرارداد خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواز بن سکتی ہے۔

April 7, 2026

حالیہ ادائیگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی بیرونی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ زرمبادلہ ذخائر اور مالی نظم و ضبط میں بہتری کے باعث ادائیگیوں کا سلسلہ برقرار ہے

April 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *