تہران/اسلام آباد: ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات ختم کرتے ہوئے پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی کوششوں میں شامل نہیں ہوگا، جبکہ خود کو اس تنازع میں مضبوط اور کامیاب پوزیشن میں قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے ثالثی کردار ادا کرنے والے پاکستان کو بتایا کہ وہ اس جنگ میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے اور اس کے پاس تقریباً 15 ہزار میزائل اور 45 ہزار ڈرونز موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے مذاکرات کے دوران بھی سخت مؤقف اختیار کیے رکھا اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار ظاہر نہیں کیے، یہاں تک کہ امریکا کے ساتھ براہِ راست سفارتی روابط منقطع کرنے سے قبل بھی اس کا رویہ غیر لچکدار رہا۔
اخبار کے مطابق ثالثوں کا کہنا ہے کہ ایران کے پیش کردہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر مبالغہ آمیز ہو سکتے ہیں، تاہم یہ اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ تہران موجودہ صورتحال میں سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اس سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی بتا چکے ہیں کہ عین اس وقت جب ایران اور امریکا مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب تھے، اسرائیل نے ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے امن عمل کو شدید دھچکا پہنچا۔ ان کے مطابق ایسے حملوں نے سفارتی کوششوں کو متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ ایران نے مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سکیورٹی پر بھی مرتب ہوں گے۔
دیکھئیے:مذاکرات سے قبل اسرائیلی حملے نے امریکا ایران امن عمل سبوتاژ کر دیا، اسحاق ڈار