افغان طالبان پر بیرونِ ملک ہدفی کارروائیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں ایران کے شہر مشہد میں ایک سابق فوجی کمانڈر کے قتل کی منصوبہ بندی کا مبینہ دعویٰ بھی نمایاں ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق طالبان کی قیادت افغانستان سے باہر موجود مخالفین کے خلاف منظم کارروائیاں شروع کرنے کی جانب مائل دکھائی دیتی ہے۔
خیال رہے کہ تہران میں طالبان کے سفارت خانے اور مشہد میں واقع قونصل خانے پر جنرل اکرام الدین ساری کے قتل کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامہ پہنانے میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان سے وابستہ چار ایجنٹ تقریباً چھ ہفتے قبل افغانستان کی سرحد پار کرکے ایران میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرتے ہوئےحملہ کیا اور واقعہ کے فوری بعد افغانستان واپس لوٹ گئے۔
🚨Alert – Taliban have commenced international operations to eliminate potential opposition figures.
— Maximus47 (@eavesdropper73) December 31, 2025
Credible information indicates that the Taliban embassy in Tehran and the group’s consulate in Mashhad were involved in planning and facilitating assassination of General… https://t.co/0iWyPL3Dx9
سکیورٹی ماہرین کے نزدیک یہ واقعہ طالبان کی جانب سے سفارتی مراکز اور سرحد پار نیٹ ورکس کے ممکنہ استعمال کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد افغانستان سے باہر رہنے والی مخالف شخصیات کی آوازوں کو دبانا نظر آتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو علاقائی سلامتی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
ان اطلاعات کے پیشِ نظر ایرانی حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنی سرحدی حدود میں طالبان سے منسلک ممکنہ سرگرمیوں کی فوری اور جامع تحقیقات کریں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایران کی داخلی سلامتی اور خطے کے عمومی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کار اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ موجودہ شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ طالبان بیرونِ ملک مخالفین کے خلاف ہدفی کارروائیوں کے دائرہ کار کو وسعت دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام اور سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دیکھیں: بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان کردیا