"> ایران-امریکہ مذاکرات تعطل کا شکار: امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے: ایرانی میڈیا - HTN Urdu ایران-امریکہ مذاکرات تعطل کا شکار: امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے: ایرانی میڈیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران-امریکہ مذاکرات تعطل کا شکار: امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے: ایرانی میڈیا

مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث فریقین کسی جامع اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد نکات پر بات چیت کے باوجود پیش رفت محدود رہی۔
ایران امریکا مذاکرات تعطل کا شکار

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کیلئے ضروری ہے کہ دوسرا فریق “زیادہ سے زیادہ اور غیر قانونی مطالبات” سے گریز کرے اور ایران کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرے۔ تاہم امریکی مؤقف پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

April 12, 2026

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے، جہاں ایرانی سرکاری میڈیا نے تعطل کی وجہ امریکہ کے “حد سے زیادہ مطالبات” کو قرار دیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہی مطالبات مشترکہ فریم ورک کی تشکیل میں بنیادی رکاوٹ بنے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری حقوق اور دیگر اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے، جس کے باعث فریقین کسی جامع اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد نکات پر بات چیت کے باوجود پیش رفت محدود رہی۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگی ہرجانہ اور پابندیوں کے خاتمے جیسے حساس امور زیر بحث آئے۔ وزارت خارجہ کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کیلئے ضروری ہے کہ دوسرا فریق “زیادہ سے زیادہ اور غیر قانونی مطالبات” سے گریز کرے اور ایران کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرے۔ تاہم امریکی مؤقف پر تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات میں تعطل کے باوجود سفارتی عمل کا جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریق مکمل تعطل کے بجائے کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں، جبکہ خطے میں استحکام کیلئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

دیکھئیے:اسلام آباد مذاکرات: 16 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود امریکہ اور ایران میں معاہدہ نہ ہو سکا؛ جے ڈی وینس واپس روانہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *