صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”

March 15, 2026

سیکیورٹی مبصرین کے مطابق نیمروز اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی گروپوں اور طالبان فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

March 15, 2026

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی صورت میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور ملک کو ایک بار پھر جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکالا جائے۔

March 15, 2026

تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔

March 15, 2026

ذرائع کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے جنگجوؤں نے تخار کے ایک علاقے میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملہ اچانک گھات لگا کر کیا گیا جس کے نتیجے میں مولوی معراج الدین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

March 15, 2026

ذرائع کے مطابق قندھار کے ڈسٹرکٹ 13 میں قائم ایک خصوصی فورس یونٹ کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ یونٹ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا اور اسے طالبان کی اہم ترین سیکیورٹی فورس سمجھا جاتا ہے۔

March 15, 2026

استنبول میں ایران۔ امریکہ مذاکرات؛ پاکستان کو شرکت کی باضابطہ دعوت

پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے
پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔ مذاکرات استنبول میں ہوں گے اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ممکنہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے

ذرائع کے مطابق اس موقع پر سعودی عرب، قطر، عمان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا ہے

February 3, 2026

دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والے جوہری مذاکرات میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو اس مذاکرات میں شرکت کی باضآبطہ دعوت دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اس ہفتے ترکی کے شہر استنبول میں ہوں گے۔

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ یہ مذاکرات بیک ڈور کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئے ہیں جن میں پاکستان اور ترکی کا اہم کردار رہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ جوہری مذاکرات جمعے کو ترکی میں دوبارہ شروع ہوں گے۔ یہ مذاکرات مئی 2023 سے پانچ دور کے بعد تعطل کا شکار تھے۔ ایران نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اپنایا ہے۔ ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ نہ پرامید ہیں اور نہ مایوس۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ مذاکراتی موقع پر سعودی عرب، قطر، عمان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

دیکھیے: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا

متعلقہ مضامین

صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”

March 15, 2026

سیکیورٹی مبصرین کے مطابق نیمروز اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں مختلف مزاحمتی گروپوں اور طالبان فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

March 15, 2026

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی صورت میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور ملک کو ایک بار پھر جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکالا جائے۔

March 15, 2026

تجزیہ نگاروں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے جانے کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی ہے۔

March 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *