پاسدارانِ انقلاب کے اندر موجود سخت گیر نظریاتی عناصر پاک ایران مصالحتی عمل کے آغاز ہی سے پاکستان پر شدید تنقید کرتے آ رہے ہیں۔ یہ انتہا پسند گروہ ایرانی ریاست کا وہ حصہ ہے جو ہمیشہ پاکستان کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار رہا ہے۔
ان سخت گیر عناصر کا خیال ہے کہ چونکہ پاکستان کے امریکہ، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اس لیے اس پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظریہ ان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں تنگ نظری کو واضح کرتا ہے۔
ان انتہا پسندوں کے نزدیک عملیت پسندی، سفارت کاری اور سیاسی حکمتِ عملی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ وہ دنیا کو صرف سیاہ یا سفید اور ہم یا وہ کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ عالمی سیاست صرف لو اور دو” اور “جیو اور جینے دو” کے اصولوں پر چلتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان سخت گیر پالیسیوں کے نتیجے میں غصہ اور کشیدگی بڑھی ہے، جس سے خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے فیصلوں نے نہ صرف غزوۃ اور حز ب اللہ کے موقف کو متاثر کیا بلکہ شام کی صورتِ حال اور خود ایران کی معاشی و سفارتی حالت کو نقصان پہنچایا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہی متشدد اور غیر لچکدار رویہ برقرار رہا، تو اس کے اثرات یمن کے حوثی گروہ اور خود ایران کے اندر موجود سخت گیر حکومت کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان مسلسل خطے میں امن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، تاکہ سفارت کاری کے ذریعے درپیش چیلنجز کا حل نکالا جا سکے اور مزید تباہی سے بچا جا سکے۔