عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سرد جنگ کے بعد جو یک قطبی دنیا امریکہ کی قیادت میں قائم ہوئی تھی، اب وہ بتدریج ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس بدلتے منظرنامے میں نہ صرف بڑی طاقتیں بلکہ درمیانے درجے کے ممالک بھی نئی اہمیت حاصل کر رہے ہیں اور انہی میں پاکستان کا نام نمایاں ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی سیاست میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ امریکہ، چین اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت نے دنیا کو ایک بار پھر بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے۔ چین کی معاشی طاقت، روس کی عسکری حکمت عملی، اور امریکہ کی سفارتی بالادستی اب ایک دوسرے کو چیلنج کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا جیسے خطے عالمی سیاست کے مرکز بن چکے ہیں۔
ایسے میں 2025 کی پاک بھارت کشیدگی نے یہ واضح کر دیا کہ جنوبی ایشیا اب بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے دفاع کا مؤثر مظاہرہ کیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے پاکستان کو محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ہمیشہ سے اس کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔ یہ ملک چین، بھارت، ایران اور افغانستان کے درمیان واقع ہے جبکہ بحیرہ عرب تک رسائی اسے عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ بناتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے اس اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ یہ منصوبہ چین کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک مختصر راستہ فراہم کرتا ہے۔
اسی بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں یومِ پاکستان کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے تہنیتی پیغامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ یہ ایک سفارتی روایت ہے، لیکن اس بار ان پیغامات کی نوعیت غیر معمولی رہی۔ امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکی اور دیگر اہم ممالک کی جانب سے نہ صرف مبارکباد دی گئی بلکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ یہ پیغامات دراصل اس بڑھتے ہوئے عالمی اعتراف کی علامت ہیں کہ پاکستان اب صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں بلکہ ایک ایسا ملک بن رہا ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر موجودہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں یہ سفارتی اشارے مزید اہم ہو جاتے ہیں جہاں دنیا ایک ایسے ثالث کی تلاش میں ہے جو قابلِ اعتماد بھی ہو اور مؤثر بھی۔
یہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت۔ ایک جانب ایران کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحد اور ہمسائیگی ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام ناگزیر ہے۔ دوسری جانب حالیہ عرصے میں ایران کی جانب سے عرب ممالک پر حملوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے جس نے پاکستان کے لیے سفارتی چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور معاہدوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب کا ایک قریبی اتحادی رہا ہے، اور دفاعی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کا بنیادی ستون ہے۔ ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہو، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھنا ایک طرف اس کی اسٹریٹجک وابستگی کو ظاہر کرتا ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات کو بگاڑے بغیر توازن قائم رکھنا ایک بڑی سفارتی مہارت کا مظہر ہے۔
یہی وہ نازک توازن ہے جو پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔ ایک طرف وہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی اور معاشی شراکت داری رکھتا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے پڑوسیانہ تعلقات کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ یہی توازن اسے ایران۔ اسرائیل یا ایران۔ عرب کشیدگی میں ایک قابلِ قبول ثالث بناتا ہے۔ موجودہ ایران اسرائیل کشیدگی نے خطے کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا ممکنہ ثالثی کردار اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ممکنہ مذاکرات پاکستان میں ہو سکتے ہیں، جو کہ ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کا یہ کردار محض اتفاق نہیں بلکہ اس کی متوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں تو دوسری جانب وہ مغربی دنیا اور عرب ممالک کے ساتھ بھی مضبوط روابط رکھتا ہے۔ یہی توازن اسے ایک قابلِ قبول ثالث بناتا ہے۔ یہ کہنا شاید قبل از وقت ہو کہ پاکستان دنیا کی ضرورت بن چکا ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، ایٹمی طاقت، اور سفارتی کردار اسے ایک ایسا ملک بنا رہے ہیں جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ تاہم، عالمی اہمیت کا حقیقی فائدہ تبھی حاصل کیا جا سکتا ہے جب اندرونی استحکام بھی موجود ہو معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے بغیر عالمی اثر و رسوخ محدود رہتا ہے۔
اگر پاکستان موجودہ موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ آنے والے برسوں میں ایک اہم علاقائی اور عالمی کھلاڑی بن سکتا ہے۔ ثالثی کا کردار، علاقائی روابط، اور اقتصادی منصوبے اسے ایک “کنیکٹر اسٹیٹ” میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اندرونی مسائل جیسے معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل حل نہ ہوئے تو یہ موقع ضائع بھی ہو سکتا ہے۔ دنیا واقعی ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اس تبدیلی میں پاکستان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ایران-اسرائیل کشیدگی، پاک-بھارت تعلقات، اور چین کے ساتھ شراکت داری نے پاکستان کو عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ یومِ پاکستان پر آنے والے عالمی پیغامات نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ دنیا اب پاکستان کو ایک سنجیدہ اور اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان اہم ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان اس اہمیت کو کس طرح مستقل اور مؤثر بناتا ہے۔ اگر دانشمندی سے پالیسی سازی کی جائے تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، استحکام اور تعاون کا ایک کلیدی ستون بن سکتا ہے۔
دیکھیے: ایران پر مسلط جنگ کے اثرات، عالمی ائیرلائنز کو 53 ارب ڈالر کا بڑا نقصان