مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک جامع 15 نکاتی جنگ بندی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے جواب میں تہران نے بھی اپنی 5 سخت شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔ اس اہم سفارتی عمل میں پاکستان ایک مرکزی سہولت کار کے طور پر ابھرا ہے۔
امریکی منصوبہ اور کڑی شرائط
میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ کے پیش کردہ 15 نکاتی منصوبے میں ایران کے بیلسٹک میزائل اور نیوکلیئر پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت ایران کو اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کرنا ہوگا اور نطنز، اصفہان اور فروڈو جیسے حساس ایٹمی مراکز تک مکمل رسائی دینا ہوگی۔ مزید برآں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور علاقائی عسکری گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ان شرائط کی قبولیت کے بدلے امریکہ نے ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے اور ’سنیپ بیک‘ میکانزم کے خاتمے کی پیشکش کی ہے۔
پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار
یہ اہم ترین منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف ان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس تمام عمل میں ایک کلیدی رابطے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔
ایران کا سخت ردعمل اور جوابی شرائط
دوسری جانب تہران نے امریکی منصوبے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ٹرمپ خود سے مذاکرات کر رہے ہیں”۔ میجر جنرل علی عبداللہ علی آبادی نے خبردار کیا ہے کہ جنگ مکمل فتح تک جاری رہے گی۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی 5 بنیادی شرائط پیش کی ہیں جن میں جنگ کا فوری خاتمہ، مستقبل میں امریکی مداخلت نہ ہونے کی ضمانت، مالی معاوضہ، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی سمجھوتہ نہ کرنا شامل ہے۔