"> سندھ طاس معاہدہ: بھارت کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی ہے، اسحاق ڈار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا.
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا.

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر بھارتی مہم جوئی کو مسترد کر دیا۔

July 1, 2026

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار سے کلیدی خطاب کیا ہے۔ منعقدہ سیمینار میں معزز سفراء، اقوامِ متحدہ کے نمائندوں، بین الاقوامی اسکالرز اور میڈیا نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں وزیرِ خارجہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پانی محض ایک قدرتی ذریعہ نہیں بلکہ انسانی وقار، معاشی ترقی اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، جسے قوموں کے درمیان ٹکراؤ کے بجائے تعاون کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

سندھ طاس معاہدے کا پس منظر

وزیرِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ 1960ء میں عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان اور بھارت کے مابین طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ ایک انتہائی مربوط اور کامیاب ترین فریم ورک ہے۔ اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا بھارت کو اور تین مغربی دریا پاکستان کو دیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے لیے پاکستان نے اپنے پورے آبپاشی اور واٹر مینجمنٹ کے نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر کے ایک بہت بڑی قربانی دی تھی، کیونکہ مشرقی دریاؤں کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیے جانے کے باعث پاکستان میں یہ دریا خشک ہو گئے تھے۔ تاہم پاکستان نے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران جنگوں اور شدید ترین سیاسی کشیدگی کے باوجود اس بین الاقوامی معاہدے کا ہمیشہ احترام کیا۔

بھارت کا غیر قانونی فیصلہ

اسحاق ڈار نے بھارتی حکومت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے حالیہ فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو اس معاہدے کے اندر اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں کسی فریق کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اسے معطل یا ختم کر سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کورٹ آف آرٹبٹریشن (عالمی عدالتِ ثالثی) نے اپنے حالیہ فیصلے میں پاکستان کے مؤقف کی مکمل توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ ایک مستقل قانونی نظام قائم کرتا ہے جس میں یکطرفہ تبدیلی ممکن نہیں۔

پانی کے بہاؤ میں تبدیلیاں

خطاب کے دوران وزیرِ خارجہ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اپریل 2025 سے پاکستان نے دریائے چناب اور دریائے جہلم کے پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اور اچانک تبدیلیاں نوٹ کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کی جانب سے پانی کے کنٹرول اور انفراسٹرکچر کی توسیع کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ پاکستان کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اس کوآپریٹو فریم ورک کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس نے گزشتہ 60 سال سے خطے کے امن کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی مفادات کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو عالمی قانونی نظام پر سے قوموں کا اعتماد اٹھ جائے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان 1 جنوری 2025ء سے 31 دسمبر 2026ء تک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا منتخب رکن ہے، اور پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کے پرامن اور کثیر الجہتی حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مہم جوئی اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے معاہدے کے اندر موجود طریقہ کار کے تحت ہی تمام تنازعات کو حل کرے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *