ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان کے موقع پر تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف متفقہ اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے امن، برداشت اور ریاستی استحکام کے قومی بیانیے کی بھرپور تائید کا اعادہ کیا ہے۔
نیشنل پیس میسج کمیٹی کی اپیل پر یومِ پیغامِ پاکستان منایا گیا، جس کے تحت کراچی سے خیبر تک مساجد میں خطباتِ جمعہ کے دوران ممتاز علما، مشائخ، ائمہ، خطباء اور واعظین نے عوام کو پیغامِ پاکستان کے متفقہ فتوے سے آگاہ کیا۔ علما نے واضح طور پر اعلان کیا کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور جو عناصر دین کے نام پر تشدد اور خونریزی کرتے ہیں وہ اسلام کے باغی، گمراہ خوارج اور عذابِ الٰہی کے مستحق ہیں۔
علمائے کرام نے قرآن و سنت کے حوالوں سے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کے اداروں، افواجِ پاکستان، علما، شہریوں، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، پر حملے شرعاً حرام ہیں۔ ایسے اقدامات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات کی کھلی نافرمانی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ماضی کی طرح آج بھی اور آئندہ بھی ریاست، عوام اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے اور انتہا پسند و دہشت گرد عناصر کے خلاف جدوجہد میں مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔ علما نے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ملک میں امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
اس موقع پر مذہبی قیادت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ قومی مفاد کے تمام امور میں ریاستی اداروں کے ساتھ ہیں، تاہم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اصول کے تحت کسی بھی غیر اسلامی عمل پر آواز بلند کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتے رہیں گے۔
یومِ پیغامِ پاکستان کے حوالے سے اظہارِ خیال کرنے والوں میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبد الرحیم، پیر نقیب الرحمٰن، علامہ عارف واحدی، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی یوسف، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا زاہد منصور، مولانا عادل عطاری، ڈاکٹر پیر آصف میر، مفتی کریم خان اور دیگر ممتاز علما شامل تھے۔
علما نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کو جن سنگین نظریاتی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا، ان میں مذہب کے غلط استعمال سے جنم لینے والی شدت پسندی اور دہشت گردی سرفہرست رہی۔ ایسے حالات میں پیغامِ پاکستان ایک جامع، علمی اور ریاستی سرپرستی میں تیار کردہ قومی بیانیے کے طور پر سامنے آیا، جسے دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، شیعہ اور دیگر تمام مکاتبِ فکر کے علما کی متفقہ تائید حاصل ہے۔
علمائے کرام نے زور دیا کہ پیغامِ پاکستان محض ایک اعلامیہ نہیں بلکہ ایک بنیادی فکری دستاویز ہے، جو اسلامی تعلیمات، آئینِ پاکستان اور ریاستی خودمختاری کی روشنی میں ہر قسم کے تشدد، بغاوت اور مذہبی استحصال کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے۔ اس متفقہ فتوے کے مطابق پاکستان میں دین کے نام پر کسی بھی مسلح کارروائی کی نہ آئین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی شریعت۔
آخر میں علما نے اتحادِ امت پر زور دیتے ہوئے تکفیر، نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ تعصب کو امتِ مسلمہ کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا اور تمام مکاتبِ فکر کے درمیان باہمی احترام، مکالمے اور برداشت کو فروغ دینے کی اپیل کی تاکہ پاکستان میں پائیدار امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔